خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 157
خطبات طاہر جلد ۶ 157 پھر ایک آیت کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کا نقشہ کھینچتے ہوئے: خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ لَوْوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آجاؤ يَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ اللہ کا رسول تمہارے لئے بخشش مانگے گا خدا سے، اس کا دل بہت ہی نرم اور رحیم ہے وہ تمہیں بخشش کی طرف بلاتا ہے نَوَوْا رُءُوسَهُم سر مٹکاتے ہوئے تکبر کے ساتھ وہ چلے جاتے ہیں وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ تو ان کو دیکھے گا کہ وہ اس بات سے رک جاتے ہیں دوسروں کو بھی روکتے ہیں خود بھی رکتے ہیں وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ ایسی حالت میں کہ نہایت ہی متکبر لوگ ہیں۔سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ ایسی حالت ان کی ہو چکی ہے کہ اے اللہ کے رسول ان کے لئے برابر ہے کہ خواہ تو ان کے لئے بخشش مانگے یا نہ مانگے۔لَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمُ ان لوگوں کو خدا کبھی نہیں بخشے گا اِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (المنافقون: ۶-۷ ) اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔اس سے زیادہ پختہ جھوٹ بولنے والے کلمہ سے مذاق کرنے والے ، منافقت سے کام لینے والے، پکے کا فرجن کے دلوں پر مہریں لگی ہیں اور زیادہ متصور ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ وہ ہیں جن کے لئے خدا نے گواہی دی ہے اور خود حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بتایا، ان لوگوں سے آنحضرت ﷺ کا کیا سلوک تھا۔جو سچ سچ کے منافق تھے، مبینہ منافق نہیں۔ان میں سے کتنوں کو آنحضرت ﷺ نے کلمہ سے روکا کہ تم ایسے ناپاک اور فاسق لوگ ہو جن کو خدا کہتا ہے تم ہوتے کون ہو میرا کلمہ پڑھنے والے۔پیغام نہیں بھیجا کہ کلمہ سے رک جاؤ ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے، یہ پیغام بھیجا کہ آجاؤ میں تمہارے لئے بخشش کی دعا مانگوں گا اور یہ پیغام بھیجتے رہے۔ایسی زبان استعمال فرمائی گئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مستقل حالت تھی۔بار بار ہمدرد لوگ جاتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ کون لوگ ہیں ان کو سمجھاتے تھے کہ ایسا نہ کرو۔اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ان کی بخشش کی دعا مانگے گا تب بھی میں نہیں بخشوں گا مگر آنحضرت ﷺ نرم پہلو رکھتے ہیں کہ باوجود اس واضح خدا تعالیٰ کے علم دینے کے بخشش کے لئے پیغام بھیج رہے ہیں کہ آؤ میں