خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد ۶ 153 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء سے پایا۔ ایک ذرہ بھی آپ نے نہ دعوی کیا نہ واقعہ ایسا ہوا کہ ایک ذرہ فیض کا بھی آپ نے حضرت محمد مصطفی مال کے وسیلے کے بغیر پایا ہو۔ یہی ہمارا ایمان ہے اسی ایمان پہ ہم زندہ ہیں اسی ایمان کی حفاظت کے لئے ہم ہر قربانی دے رہے ہیں ۔ اس لئے اتنا جھوٹا ، لچر اور بے اتنا جھوٹا ، لچر اور بے حقیقت الزام لگا کر یہ پتا نہیں اپنے لئے کیا کما رہے ہیں اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ان کو علم نہ ہو اس بات کا یہ صاف پتا چل رہا ہے کہ یہ تحریر جو ہے یہ تلبیس ہے اور دھوکا دینے کی ناپاک کوشش ہے عبارتوں میں سے کچھ حصے نکال کر ان کو غلط رنگ پہنا کر اور جن معنوں میں وہ بات بیان نہیں کی گئی ان معنوں میں اسے زبر دستی بنا کر یہ نتیجے نکالے گئے ہیں ، ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔ لیکن بہر حال اس کے متعلق میں پھر دوبارہ بات کروں گا۔ سر دست یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر صلى الله صلى الله ان کے یہ الزام سچے ہوں نعوذ باللہ من ذالک ۔ اگر جماعت احمد یہ نعوذ بالله من ذالک ساری دنیا میں منافق ہے اور خودان میں سے بھی جو شرفاء جماعت میں داخل ہوتے۔ ہوتے چلے جاتے ہیں وہ نعوذ بالله من ذالک آنحضرت ﷺ کا نام لے کر آپ علی مراد نہیں لیتے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مراد لیتے ہیں اور عملاً کلمہ پڑھتے وقت اللہ اور رسول کی بات نہیں کرتے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کرتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو جو بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے وہ منافقت ہے۔ ظاہراً تو وہی نام ہے، ظاہراً تو وہی کلمہ ہے اس لئے ظاہری طور پر جماعت احمد یہ کے خلاف یہ فتویٰ تو بہر حال نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ کلمہ کے منکر ہیں۔ حد سے زیادہ جو کوشش کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ منافق ہیں اور یہ ہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ منہ سے کچھ اور کہتے ہیں دل ہ میں کچھ اور مراد ہے۔ اگر خدا نخوستہ یہ صورت ہے تو ایسی صورت میں ان کو کیا حق ہے اور شریعت اسلامیہ صلى الله ڈالنے کے کیا حکم دیتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی سنت ہمیں کیا رستہ دکھاتی ہے اس مضمون پر روشنی ڈا۔ لئے میں نے قرآن کریم سے وہ چند آیات تلاوت کیں تھیں جو سورۃ المنافقون سے لی گئیں اول دو، تین اور چار آیتیں ۔ ان آیتوں سے قتل مرتد کے عقیدہ کے خلاف بھی بڑا قطعی استدلال ہوتا ہے لیکن یہ آیتیں بعینہ اس مضمون پر بھی روشنی ڈال رہی ہیں جو اس وقت پاکستان میں زیر بحث ہے کہ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہو اور کوئی دوسرا مولوی یہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ بولتا ہے،منافقت سے کلمہ پڑھتا ہے، دل میں یہ سچی گواہی نہیں دے رہا تو اس دوسرے مولوی کو کیا حق دیتی ہے شریعت کہ اسے کیا کرنا