خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد ۶ 150 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء لٹریچر میں جب کلمہ شہادۃ کا ذکر کلمہ طیبہ کے لفظ کے تابع آتا ہے تو عربی میں ترجمہ کرتے وقت یہ تاکید کی جاتی ہے کہ اسے کلمہ شہادۃ لکھا جائے ورنہ عربوں کو اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔تو بہر حال نام اس کا جو بھی معروف ہو کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادہ بنیادی حقیقت تو وہی رہتی ہے۔اس کلمہ کو ایک بہت ہی بڑے جرم اور بھیانک جرم کے طور پر آج کل پاکستان میں بعض علماء کی طرف سے دیکھا جا رہا ہے اور اگر کوئی احمدی کلمہ طیبہ پڑھے یا کلمہ شہادہ پڑھے اور یا اسے اپنے سینے سے لگائے پھرے یا اس کے گھر سے لکھا ہوا یہ کلمہ برآمد ہو یا اس کے خطوں میں یہ کلمہ لکھا ہوا پایا جائے تو پاکستان کے علماء کے نزدیک یہ اتنا بھیا نک ظلم ہے کہ نہ صرف اسے فوراً بحوالہ پولیس کرنا چاہئے بلکہ پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے جس حد تک بھی اسے مارا جائے اور ذلیل اور رسوا کیا جائے وہ بھی کار ثواب ہے اور جب ایسے حکومت کے افسران جو طبعی شرافت دل میں رکھتے ہیں اس بات میں تردد محسوس کرتے ہیں یہاں تک کے بعض پولیس افسران بھی احمدیوں کے خلاف کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادہ پڑھنے کے نتیجے میں پرچہ درج کرنے سے گریز کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایک بڑی مہم چلائی جاتی ہے انہیں مرزائی نواز کہا جاتا ہے، ان کے خلاف حکومت میں شکایتیں کی جاتی ہیں کہ اسے تبدیل کر دو۔چنانچہ اتنا خوف شرفاء افسروں کے دل میں اس بات کا بیٹھ گیا ہے کہ بہت ہی کم ایسے مرد ہیں کو جو مردانگی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اصولاً اس ناپاک مہم میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔مگر بہر حال ایسے مرد شرفاء گنتی کے چند ہوتے ہیں۔اکثر تو ہمارے ملک میں یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ شرافت یا گونگی ہوتی ہے یا بزدل ہوتی ہے۔گزشتہ مرتبہ میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ قرآن کریم کی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس سلسلے میں میں آئندہ مزید وضاحت کروں گا کہ اس کا کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادہ کی مہم سے کیا تعلق ہے تعلق یہ ہے کہ علماء اپنے اس مذموم فعل کو حسن دکھانے کے لئے ،اچھا کر کے دکھانے کے لئے بعض موقف اختیار کر رہے ہیں جنہیں شائع کر کے سارے پاکستان میں پھیلایا جا رہا ہے اور باہر سے جو خبریں آرہی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزی میں بھی ایسے رسائل کی اشاعت کی جارہی ہے کثرت کے ساتھ اور عربی زبان میں بھی کثرت کے ساتھ ایسے رسائل کی اشاعت کی جارہی ہے جن میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں ہم احمدیوں کو کلمہ پڑھنے سے اس لئے روکتے ہیں کہ