خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 134
خطبات طاہر جلد ۶ 134 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء کی پشیمانی کو دیکھ کر ایک سچے دل میں جو تسکین اور اطمینان کے جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ ایک من دل میں ہزار انتقام کے بعد بھی پیدا نہیں ہو سکتے۔پس برا دیکھ کر اپنے دلوں کو ٹھنڈا کرنے کی دعائیں نہ کریں۔آپ کو دل کی ٹھنڈک چاہیئے آپ کو دل کی طمانیت چاہئے ، اللہ تعالیٰ کے پاس ہزار رستے ہیں آپ کے دلوں کو ٹھنڈا کرنے کے وہ غضب کو بھڑکائے بغیر بھی آپ کے دلوں کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔ورنہ امر واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے خدا کے نشان دیکھے ہیں عذاب کے اور سزا کے قریب سے وہ جانتے ہیں کے ان میں کوئی لذت نہیں ہے۔استغفار کا مقام ہے خوف کا مقام ہے۔کسی کی بگڑی ہوئی فطرت ہو تو وہ تو لذت پائے گا اس سے لیکن حقیقت میں عبرت تو حاصل ہو سکتی ہے لذت حاصل نہیں ہوا کرتی خدا کے غضب کے بعد۔بعض دفعہ چھوٹے چھوٹے واقعات بھی ہوتے ہیں۔مجھے ایک احمدی دوست نے خط لکھا کہ ایک ان کا افسر تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی گستاخی میں دن بدن بڑھتا چلا جارہا تھا اور چونکہ افسر تھا ویسے بھی اس کے سامنے یہ کچھ نہیں کر سکتے تھے مگر کہتے ہیں صبر کی تعلیم تھی میں صبر کرتا رہا، بہت صبر کرتا رہا لیکن ایک دن اس نے اتنی گستاخی شدید کی ایسا گند بولا کہ میرے دل سے بے اختیار بددعا نکل گئی اور میں نے اس کو کہا خدا تیرے گلے میں جہاں سے آواز نکل رہی ہے کیڑے ڈالے تیری زبان بند ہو جائے اور تو ذلت کی موت مرے۔کہتے ہیں اس کے بعد میں پشیمان بھی ہوا لیکن اب تو میں اتنا استغفار کر رہا ہوں اور اتنا ڈر رہا ہوں کہ میں نے کیوں ایسی بات کہی کہ اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد، ایک دو ہفتے کے اندر اندر، واقعہ اس شخص کے گلے میں کوئی ایسی بیماری پڑی کہ اس کی آواز بند ہوگئی اور انتہائی دردناک حالت ہوگئی۔ایسے کوئی جراثیم تھے جن کے متعلق وہ کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ ان کی نوعیت کیا تھی مگر اتنا شدید عذاب میں مبتلا تھا کہ چند دن اس عذاب میں مبتلا رہ کر بات کرنے کی اہلیت جاتی رہی ہاتھ سے اور اسی حالت میں مر گیا۔انہوں نے مجھے جو خط لکھا وہ کہتے ہیں میں اس وقت سے استغفار کر رہا ہوں آپ نے تو ہمیں کہا تھا کہ صبر کرو اور دشمن کے لئے بھی بد دعا ئیں نہ کرو اس وقت میرے منہ سے بددعا نکل گئی لیکن جو اس کی درد ناک حالت دیکھی ہے مجھے اب چین نہیں آرہا کہ کیوں میں نے ایسی حرکت کی۔تو میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ صاحب تجر بہ جانتے ہیں کہ جب خدا کا عذاب نازل ہو رہا