خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 133
خطبات طاہر جلد ۶ 133 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء جھلا جھلا کر جلتی ہوئی آگوں میں پھینکا جا رہا ہو اور اغواء کر کے لڑکیاں ان کی عزتیں لوٹی جا رہی ہوں اور پھر اس کے بعد ان کو قتل کر کے بھیانک طریقے پر سڑکوں پر ان کی لاشیں پھینکی جارہی ہوں۔کون احمدی ہے جس کے اندر ایک ایمان کا ذرہ بھی ہے جو ان باتوں سے خوش ہوسکتا ہے۔یہ نہایت ہی خوفناک ظلم ہیں جنہیں ہر شریف انسان مذمت کی اور تکلیف کی نظر سے دیکھے گا۔اس لئے ہرگز کسی احمدی کے لئے بھی ایک لمحہ کے لئے ایک ذرہ برابر بھی ان باتوں پر خوشی کی کوئی گنجائش نہیں۔ہاں خدا تعالی کی طرف سے جو پکڑ ظاہر ہوتی ہے اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے وعدے پورے کرنے کی طرف جو دھیان جاتا ہے وہ ایک بالکل اور مضمون ہے۔اس کے نتیجے میں انسان کی انسانیت کے اوپر حرف نہیں آتا ، انسان کی انسانی قدریں قربان نہیں ہوتیں۔حضرت رسول اکرم ﷺ کی ساری زندگی کا آپ مطالعہ کریں خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے پر آپ شکر بھی فرماتے تھے اور دشمن کی ہلاکت پر درد بھی محسوس فرماتے تھے بلکہ اس دشمن کی ہلاکت پر بھی درد محسوس فرماتے تھے جس کی ہلاکت ابھی واقع ہی نہیں ہوئی تھی ، جس کے متعلق خبر دی جاتی۔پس ہم نے آنحضرت ﷺ کی سنت کو اپنانا ہے اور یہی سنت ہماری بقا کا موجب بنے گی۔اس لئے آپ اگر پاکستانی ہیں تو آپ پر دو ہرا فرض ہے کہ آپ اس ملک کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے بچائے۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنی پکڑ سے اس طرح محفوظ رکھے کہ ہمارے دل بھی ٹھنڈے کرے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ کے پاس بے شمار رستے ہیں میں یہ نہیں کہتا آپ کو کہ یہ دعا کریں کہ ہمارے دل اسی طرح جلتے رہیں ان کے ظلم دیکھ کر اور اللہ تعالیٰ ان سے کوئی معاملہ بھی نہ کرے، ہرگز میں یہ نہیں کہہ رہا۔میں تو یہ کہ رہا ہوں کہ آپ یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔وہ جو ظلم کرنے والے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی گستاخی کرنے والے ہیں وہ سلام بھیجنے والے بن جائیں۔وہ جو احمدیت کی مخالفت کر رہے ہیں، احمدیت کی راہ میں آگے بڑھ کر قربانیاں دینے والے بن جائیں۔وہ جو آپ پر ظلم کر کے آپ کے بہتے ہوئے آنسو پہ ہنسا کرتے تھے وہ اپنے مظالم کی یاد سے خود روئیں آپ کے سامنے اور آپ ان کے آنسوؤں پر نہیں نہیں بلکہ پیار اور محبت سے ان کے آنسوؤں پر پھر آنسو بہائیں۔یہ جوانتقام ہے، یہ جو دل کی تسکین کا سامان ہے اس جیسا کوئی نہ انتظام ہے نہ کوئی تسکین کا سامان ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایک پشیمان آدمی