خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد ۶ 132 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء ہوسکتا جب تک آپ اپنی منزل کو نہ پالیں اور یہ ضروری ہے آپ کے لئے ، آپ کو بیدار رکھنے کے لئے ، آپ کو ہوشیار کھنے کے لئے ، آپ کے اندر قوت مدافعت پیدا کرنے کے لئے ، اپنے مقاصد اور اپنے رخ کی طرف ہمیشہ نظر رکھنے کی خاطر خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا ہے یہ تو آپ کے ساتھ چلے گا بہر حال چلے گا، آج کچھ ہوں گے تو کل کچھ اور آجائیں گے نام بدلے جائیں گے حرکتیں یہی ہوں گی کہ دوڑ دوڑ کے انہوں نے سانس چڑھا چڑھا کر مرنا ہے۔آپ نے آگے بڑھ بڑھ کر، خدا کے رستے پر مزید قدم بڑھاتے ہوئے جانیں دینی ہیں۔ایک مقصد کی خاطر ، ایک معین رخ پر آپ نے آگے بڑھتے چلے جانا ہے اور اس سفر میں ان کی مذموم حرکتوں کو ہرگز اجازت نہیں ملنی چاہئے کو وہ کسی قسم کا بداثر ڈال سکیں ، آپ کی رفتار کو روک سکیں ، آپ کی توجہ کو بانٹ سکیں اس طرح کہ آپ اپنی زندگی کے اعلیٰ مقاصد کو بھلا دیں۔پس خواہ آپ سطح زمین پر بسنے والے احمدی ہیں تب بھی آپ نے آگے ہی بڑھنا ہے، خواہ آپ زیر زمین جانے والے یعنی انڈر گراؤنڈ ہونے والے احمدی ہیں اصحاب کہف بن چکے ہوں ، تب بھی آپ نے کام کرتے چلے جانا ہے۔احمدیت کے اوپر کوئی غفلت کا لمحہ، کوئی بے عملی کالمحہ نہیں آنا چاہئے اس کے ساتھ آخر پر میں آپ کو دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ جو میں نے حالات بتائے ہیں پاکستان کے متعلق اس کے نتیجے میں کوئی احمدی جو پاکستانی احمدی ہو وہ خوش نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ بعض دفعہ جماعت جب ان باتوں کو دیکھتی ہے تو اس کے دل میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے ایک حرکت پیدا ہوتی ہے، ایک موج پیدا ہوتی ہے۔ضروری ہے کہ اس کا صحیح تجزیہ کیا جائے۔ظلم کے نتیجے میں خوشی کی وہ ہر نہیں ہے اگر ہے تو وہ پھر جھوٹی لہر ہے وہ احمدی ناقص احمدی ہے۔اس کے دل میں جو موج پیدا ہوتی ہے یا ہونی چاہئے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی موج ہونی چاہئے۔اس خیال کے ساتھ دل میں شکر پیدا ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے جماعت سے کئے تھے وہ پورے کر رہا ہے۔جو وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کئے تھے وہ پورے کر رہا ہے۔انی معین من اراد اعانتک کا وعدہ بھی پورا ہورہا ہے۔انی مهین من اراد اهانتک ( تذکره صفحه: ۱۶۱) کا وعده بھی پورا ہو رہا ہے۔اس حد تک تو دل میں اگر تموج پیدا ہو ایک حرکت پیدا ہو تو وہ قابل ستائش ہے قابل مذمت نہیں۔لیکن اپنے بھائیوں کے اوپر دوسرے بھائی ظلم کر رہے ہوں سفا کا نہ، انسان کی عزتیں لوٹی جارہیں ہوں، بچے یتیم بنائے جا رہے ہوں، چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں اور عورتوں کو