خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 131
خطبات طاہر جلد ۶ 131 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء ہے اگر ہم چاہتے تو اس کا ، جس کی ہم مثال دے رہے ہیں ، اس کا مرتبہ نور نبوت کے ذریعہ بہت بلند کر دیتے لیکن اس نے زمین کی طرف جھکنا اختیار کر لیا اسے اپنے لئے پسند کیا فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ خود اس کی مثال ایک کتے کی سی ہے اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ تو خواہ اس کے اوپر روڑا اٹھائے تب بھی بھونکتے بھونکتے اور تیرا تعاقب کرتے کرتے اس کو سانس چڑھناہی چڑھنا ہے اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ اسے چھوڑ بھی دے تب بھی اس نے یہی کام کرنا ہے۔ایسا عجیب نقشہ کھینچا ہے۔آپ کسی جگہ سفر پر جارہے ہوں تو بعض قافلوں کے کتے بیٹھے ہوئے ہوں یا کسی گاؤں کے پاس سے گزریں تو گاؤں کے کتنے آپ پر حملہ کرتے ہیں اور نہ کاٹنے والے بھی ہوں اور اکثر نہیں کاٹتے تو دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور جب آپ ہاتھ اُٹھاتے ہیں یا زمین کی طرف روڑے کے لئے جھکتے ہیں تو وہ دوڑ جاتے ہیں اور آپ ان کو چھیڑیں یا نہ چھیڑیں ، ماریں یا نہ ماریں انہوں نے ضرور یہ کرنا ہے اور ہمیشہ یہی کرتے ہیں یہ ان کا مقدر ہے یہ ان کی فطرت ہے۔تو خدا تعالی کہتا ہے انہوں نے تو دوڑ دوڑ کر اپنے لئے سانس چڑھانا اپنا مقدر بنالیا ہے۔یہ تو تمہارے تعاقب کرتے رہیں گے۔ہانپتے رہیں گے، کانپتے رہیں گے، برا حال رہے گا۔اس لئے یہ تمہارے روڑا اٹھانے یا روڑا پھینکنے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق بھی نہیں ہے انہوں نے اپنا کام بہر حال یہی کرنا ہے اور یہی کرتے چلے جائیں گے۔اس لئے تم کیوں اپنی کوششوں سے غافل ہوتے ہو؟ تم کیوں اپنی رفتار میں کمی آنے دیتے ہو؟ تم نے جو عظیم فاصلے طے کرنے ہیں وہ کرتے چلے جاؤ۔غافل رہو اس بات سے اس ڈر سے بے پرواہ رہو کہ یہ کیا کرتے ہیں اور کیا کریں گے، انکے مقدر میں بہر حال ہانپنا کانپنا لکھا ہوا ہے یہ تو اسی طرح مارے جائیں گے۔اس لئے ان کے ساتھ تو یہی ہو گا خدا کی تقدیر نے ان کو سانس چڑھا چڑھا کر مارنا ہے۔یہ آپ کا تعاقب کر کر کے، برے حال ہو کر ہر کوشش کے بعد نا کام اور نامراد ہوں گے اور دیکھیں گے کہ ہاں ہم ناکام اور نامراد ہوئے۔ساری تاریخ جماعت احمدیہ کی بتارہی ہے یہی ہوتارہا ہے۔اس لئے آپ اپنی کوششوں میں کمی نہ آنے دیں۔جو کام آپ کے لئے مقدر ہیں ان کے اوپر نظر رکھیں اور آگے بڑھتے چلے جائیں۔ایک دن ایک لمحہ بھی اپنے اوپر غفلت کا نہ آنے دیں۔ہر حال میں آپ نے ترقی کرنی ہے۔ہر حال میں آپ نے فاصلے طے کرنے ہیں۔ایک حملہ آوروں کا قافلہ پیچھے چھوڑ جائیں گے تو آگے پھر آپ کی راہ میں کوئی اور بیٹھا ہو گا۔مستقل آپ کو کبھی بھی امن نصیب نہیں