خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 124

خطبات طاہر جلد ۶ 124 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء دی جارہی، کہیں خدا کا نام تو نہیں بلند کیا جارہا، کہیں نماز یں تو نہیں پڑھی جار ہیں۔یہ بھی رپورٹیں درج ہوئی ہیں با قاعدہ کہ یہ احمدی ہو کر خدا کی عبادت کرتا ہے نمازیں پڑھ رہا ہے۔تو یہ اب ان لوگوں کا پیشہ بن گیا ہے۔اس سلسلہ میں ایک احمدی نے ایک بڑی اچھی بات مجھے لکھی ، کہتا ہے میری ایک دفعہ بحث ہو رہی تھی ایک مولوی صاحب سے تو میں نے ان سے کہا تم کیا سمجھتے ہو کہ تم جوں جوں آگے بڑھ رہے ہوشدت میں اور مخالفت میں اور ظلم میں ، جماعت احمد یہ پہ کیا اثر ہورہا ہے۔انہوں نے کہا میں تمہیں بتا تا ہوں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ پہلے جب ۵۳ء میں یا ۳۴ ء وغیرہ میں جب فسادات ہوا کرتے تھے۔ان دنوں میں تم نشان لگایا کرتے تھے ہمارے گھروں پر اور تم یہ نشان لگا کر۴ ۷ ء تک بھی یہ ہمیں ڈرایا کرتے تھے اپنی طرف سے کہ ہم نشان لگا رہے ہیں اور یہ خون کا نشان ہے، یہ تمہاری موت کا نشان ہے، تمہارے ان نشان لگانوں نے ہمارے حو صلے کم کئے ہیں یا زیادہ کئے ہیں اس بات سے تم پہچان جاؤ کہ اب ہم اپنے گھروں کو نشان لگا رہے ہیں۔ہم لا اله الا الله محمدرسول اللہ خود اپنے گھروں اور اپنی دکانوں پر لکھتے ہیں کہ تمہیں نشان لگانے کی ضرورت نہ پڑے۔ہم تو خدا کے وہ بہادر اور شیر بندے ہیں کہ تمہارے ہر خوف دلانے کے نتیجے میں ہماری جراتیں بڑھی ہیں تم ہمیں کیسے شکست دے سکتے ہو؟ تو امر واقعہ یہ ہے کہ یہ اپنی طرف سے جاسوسی کر رہے ہیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ احمدیوں کو اس جاسوسی کی ضرورت نہیں ہے۔وہ تو خود کھلم کھلا ایک دفعہ جب یہ کلمہ مٹاتے ہیں تو دوسری دفعہ پھر لکھتے ہیں وہ دوسری دفعہ مٹاتے ہیں، تیسری دفعہ پھر لکھتے ہیں۔قطعا اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ ان سے کیا گزرے گی اور چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں سارے اس عظیم جہاد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی دلیری کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مومنانہ شان کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔چنانچہ جو وہاں سے قیدیوں کی تصویر میں آتی ہیں۔آپ اندازہ کریں کیا کیا مناظر اس وقت احمدیت آسمان مذہب پر کیسے کیسے حسین مناظر نقش کر رہی ہے۔پچھتر سالہ بوڑھا، اسی سالہ بوڑھا، دو ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں اور مسکرار ہے ہیں اور ساتھ مخوست زدہ چہرے پولیس کے اور مولویوں کے دکھائی دے رہے ہیں جو یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم نے ان کو آخر کلمہ لکھنے کے جرم میں یا بسم اللہ پڑھنے کے جرم میں قید میں پہنچا دیا اور جن کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ہیں ان کے چہرے آپ دیکھیں حیران ہوں گے۔ایسا نور ہے، ایسی طمانیت ہے ان کے چہروں پر ، ایسا لطف ہے کہ وہ