خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 123

خطبات طاہر جلد ۶ 123 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء بدل کر دوبارہ آتی ہے، ظاہر ہوتی ہے اور دوبارہ اپنا جلوہ دکھا کر چلی جاتی ہے۔جو دیکھنے والی آنکھیں ہیں وہ پہچان لیتی ہیں کہ قرآن کریم نے کون سے قصے کس کس وقت کے لئے محفوظ کئے ہوئے تھے۔پہلے کس طرح ظاہر ہوئے تھے اب کس شان سے ظاہر ہورہے ہیں۔بہر حال ایک دور ہے اس کا ، اس تاریخ کا جو گزرا ہے اور یہ تاریخ اب ایک بڑی تیزی کے ساتھ ایک نئے دور میں بھی داخل ہو رہی ہے۔جو جو باتیں میں نے مثالاً بیان کی ہیں یہ ساری پوری نہیں ہوئیں صرف ان کا ایک حصہ ہے جو ابھی تک پورا ہوا ہے اور جو دوسرا حصہ ہے اس میں اب یہ تاریخ داخل ہو رہی ہے اور اسی کی طرف توجہ دلا کر آپ کو دعا کی تحریک کرنے کے لئے یہ میں نے اتنی لمبی تمہید باندھی ہے۔جماعت احمدیہ کی مخالفت میں جو ظلم ہورہے ہیں اس وقت وہ کھلے کھلے ننگے خدا سے جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔کلمہ کے نتیجے میں پہلے تو یہ کہتے تھے کے تم محمد رسول اللہ ﷺ کا نام نہیں لے سکتے کیونکہ نعوذ باللہ من ذالک تم نے آنحضرت ﷺ کی خاتمیت پر حملہ کیا ہے اس لئے تم نے اپنا تعلق تو ڑ لیا۔اب کہتے ہیں کے تم اللہ کا نام بھی نہیں لے سکتے۔تمہارا نہ محمد ﷺ سے کوئی تعلق نہ اللہ سے کوئی تعلق۔یعنی جب تک ہم تمہیں دہر یہ نہ بنا دیں مکمل اس وقت تک ہم تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور بسم اللہ جن جن کے گھروں سے نکلی اور بعض دفعہ شادی کے کارڈوں پر لکھی ہوئی نظر آئی بعض دفعہ کسی نے اپنی دکان کے ماتھے پر بسم اللہ سجائی ہوئی تھی اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (الزمر: ۳۷) آیت کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ، یہ آیت لکھی ہوئی کہیں ملی یا کسی کے خط میں نظر آگئی اور وہ خط پکڑا گیا۔یہ سارے اب ایسے بھیانک جرم بن چکے ہیں پاکستان میں کہ علماء بڑی توجہ کے ساتھ ان جرموں کی نشاندہی کے لئے وقف ہوئے ہوئے ہیں۔جس طرح پولیس کا محکمہ ہوتا ہے ایک جاسوسی کا ، وہ ایسے جرائم تلاش کر رہا ہوتا ہے کہ کسی نے حکومت کے خلاف کوئی سازش تو نہیں کی کسی نے کوئی بد معاشی تو نہیں کی جس کے نتیجے میں ملک میں اور فساد پھیلے، ڈاکے کی سازشیں کہاں ہورہی ہیں، بغاوت کی سازشیں کہاں ہو رہی ہیں اس قسم کی باتوں میں ہر ملک میں جاسوسی کے محکمے ہوتے ہیں جو کام کر رہے ہوتے ہیں۔مولویوں کے جاسوسی کا محکمہ اب اس بات پر لگا ہوا ہے کہ کسی جگہ کسی احمدی نے کہیں بسم اللہ تو نہیں لکھی ہوئی، کہیں لا الہ الا اللہ تو نہیں لکھا ہوا، کہیں اذان تو نہیں