خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 118
خطبات طاہر جلد ۶ 118 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء کوئی گندا چھالنے کا موقع ملے تو وہ حکومت کے منظور نظر بننے کی کوشش کریں۔جتنا زیادہ وہ جھوٹ کو اچھالیں گے اتنا ہی وہ سمجھتے ہیں ان کے سربراہ یا ان کے نگران کہ ہم حکومت کی نظر میں زیادہ لاڈلے ہوتے چلے جائیں گے، زیادہ محبوب ہوتے چلے جائیں گے۔اس لئے کوئی ادنی سا موقع بھی ایسے اخبار جو حکومت کے پیچھے چلنے والے یا حکومت کی زکوۃ پر پلنے والے ہیں، وہ اخبار ہر کوشش کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے خلاف گند کو اچھالا جائے۔عوام الناس اس کو سنتے ہیں۔ان کے دلوں میں یک طرفہ جماعت کے خلاف غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔یہاں تک کے بالعموم جماعت کے خلاف ایک نفرت کا رجحان موجود ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔لیکن وہ یہ جانتے ہیں ان سب کے باوجود کہ احمدیوں پر اس کے باوجود مظالم کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ایک عام احساس ملک میں بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ جو بھی ہیں وہ یقین بھی کر لیتے ہیں کہ ہم اسی قسم کے جھوٹے ہیں جس طرح کے بیان کئے جاتے ہیں۔وہ یہ بھی یقین کر لیتے ہیں کہ ہم نعوذ باللہ من ذالک اپنے عقائد میں فاسد ہیں، فستق رکھتے ہیں اور ہر قسم کے جو لغو الزامات ہم پر لگائے چلے جاتے ہیں وہ ان کو مانتے بھی جاتے ہیں۔اُس کے باوجود عوام الناس کی طرف سے جور پورٹیں مل رہی ہیں ان کا رد عمل یہ ہے کہ یہ سب کچھ اپنی جگہ ٹھیک ہو گا حالانکہ وہ جھوٹ ہے۔ٹھیک ہونے کے باوجود ان کے نزدیک وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو ان مظالم کا کوئی حق نہیں۔کلمہ پڑھنے کے نتیجے میں قید کرنا اور ظلم کرنے اور بسم اللہ لکھنے کے نتیجے میں گلیوں میں گھسیٹنا اور دکانوں کو آگ لگانی اور چھ چھ سال سات سات سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی جانی ، یہ ساری باتیں وہ جانتے ہیں ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ ظلم ہے اور جھوٹ ہے وہ اس لئے حکومت کے ساتھ شامل نہیں ہوتے کہ حکومت ان کے نزدیک بہت زیادہ قابل نفرت ہے احمدیوں کے مقابل پر۔دوسرا حصہ پاکستان کے عوام کا وہ ہے جو احمدیوں سے واقف ہے ذاتی طور پر اور ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو احمدیوں سے ذاتی طور پر واقف ہے۔ان کا ایک حصہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔جوان کے متعلق پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ بھی جھوٹ ہے لیکن ان کی زبان میں جرات نہیں ہے۔وہ دبی زبان سے بعض اوقات جماعت کی حمایت میں بات کر جاتے ہیں، جماعت کے خلاف ہونے والے پرو پیگنڈا کے خلاف بولتے بھی ہیں لیکن ہمدردی رکھتے ہوئے بھی اتنی ہمدردی بہر حال نہیں رکھتے کہ