خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 110

خطبات طاہر جلد ۶ 110 خطبه جمعه ۱۳ار فروری ۱۹۸۷ء وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ایک عظیم الشان گردیا ہے خدا تعالیٰ نے ہمیں ترقی کا۔ایک ایسا راز سکھا دیا ہے جو قوموں کی زندگی کا راز ہے۔اس کو سیکھنے کے بعد کیوں اس کو استعمال نہیں کرتے۔یہ ہے بنیادی بات جس کی طرف میں آج آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات تبلیغ کا اس تیزی کے ساتھ آگے نہ پھیلنالا زمامایوسی کے نتیجے میں ہے۔آپ جائزہ لے کے دیکھ لیں وہ لوگ جو ان باتوں کو سنتے ہیں اور ان کے دل پر اثر بھی پڑتا ہے وہ کیوں ایسا نہیں کر سکتے اس لئے کہ دل میں ایک بے یقینی ہے کیسے ہو سکتا ہے یہ تو بہت بڑی بات ہے۔اگر ایسا ہونے لگے تو چند سالوں میں ساری دنیا پر احمدیت غالب آجائے۔یہ کہانیاں ہیں یہ قصے ہیں، یہ اچھی باتیں ہیں، اچھے ارادے ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔یہ خیال ہیں جو نیک لوگوں کے دل میں نسبتا نیکی کے روپ میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، بدلوگوں کے دل میں تنقید کی شکل میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں اور بد تر لوگوں کے دل میں تضحیک کے رنگ میں داخل ہورہے ہوتے ہیں، مذاق اڑانے کی خاطر داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔لیکن ہیں یہ ایک ہی بیماری کی مختلف شکلیں مختلف اس کے درجات ہیں۔کبھی یہ مہلک ہو کر ظاہر ہو رہی ہے، کبھی یہ ابتدائی خراش پیدا کر رہی ہے۔ہر منزل پر اس بیماری کو کچلیں کیونکہ آپ کے عمل پر براہ راست اس کا اثر پڑتا ہے۔ہراحمدی کو یقین کرنا چاہئے مجھے کئی خطوط ایسے ملتے ہیں جن میں مختلف رنگ میں یعنی بڑے بڑے اچھے مخلصین کی طرف سے بھی ان باتوں پہ تبصرہ ہوتا ہے اور اس سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ بیماری بھیس بدل کر جس طرح قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ شیطان بھیس بدل کر داخل ہوتا ہے کس طرح یہ اچھے اچھے مخلصوں کے دل میں بھی بھیس بدل کر داخل ہو جاتی ہے۔ایک دوست نے لکھا کہ آپ کہتے ہیں وعدہ کرو کہ سال میں ایک احمدی بناؤں گا۔آپ بتائیں کہ انسان کے بس میں ہے کیا۔جب تک خدا کی تقدیر نہ ہواس وقت تک کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔اس لئے جو چیز خدا کے ہاتھ میں ہے اس کے متعلق میں وعدہ کرلوں اور پھر جھوٹا بنوں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔اصل میں وہی بے یقینی پن ہے اگر انسان کو آخرت پر یقین ہو تو آخرت تو خدا کی خاطر ہے آپ خدا کی خاطر کام کریں اور خدا آپ کو پھل سے محروم کر دے یہ وہم آپ کے دل میں کیوں پیدا ہوتا ہے؟ اسی کا نام مایوسی ہے۔کامل تو کل کے نتیجے میں یہ وعدہ ہوتا ہے اور ایک مومن یقین رکھتا