خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 102
خطبات طاہر جلد ۶ 102 خطبه جمعه ۱۳ار فروری ۱۹۸۷ء سوالات ہیں جو انسانی ذہن میں اٹھتے ہیں اور قرآن کریم نے آخرت پر یقین کا تو ذکر فرمایا لیکن خدا کی ہستی پر یقین کا یا انبیاء کی ہستی پہ یقین کا یا قرآن کریم پر یقین کا یا ملا ئکتہ اللہ پر یقین کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔پس لازما کوئی اہم فرق ہے ایمان اور یقین میں جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو کئی قسم کے فرق ہمارے سامنے ابھرتے ہیں۔بعض ایسے بنیادی اور اہم فرق ہیں جن کا ذکر آج میں ضروری سمجھتا ہوں۔ایمان جن چیزوں پر لانا ضروری ہے وہ چیزیں اپنی ذات میں مستحکم ہیں اور کسی کے ایمان لانے پانہ لانے سے ان کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ان کے وجود پر ایک ذرہ بھی اثر اس بات کا نہیں پڑتا کہ کوئی شخص ایمان لایا ہے یا نہیں لایا۔اللہ ہے وہ ان معنوں میں مستغنی ہے کہ باوجود اس کے کہ سب سے یقینی ذات اور ہر یقین کا منبع وہ ہے۔اس کے باوجود جہاں تک ایمانیات کا تعلق ہے کروڑ ہا وجود، ارب ہا وجود پیدا ہوں اور بے ایمان کے مر جائیں تب بھی خدا کی ہستی پر اس کی ذات کے استحکام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اسی طرح ملائکہ کا وجود ہے ان پر کوئی ایمان لاتا ہے یا نہیں لا تاملائکہ کا وجود اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کے سہارے قائم ہے۔اسی طرح کتابوں کا معاملہ ہے اور اسی طرح انبیاء کا معاملہ ہے اور اسی طرح یوم آخرت کا معاملہ ہے۔آخرت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے لیکن یہاں قرآن کریم نے جس آخرت کا ذکر فرمایا ہے اس پر یقین لانا ضروری ہے۔ایمان والی آخرت سے یقین والی آخرت میں ایک فرق ہے جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ایمان کا جہاں تک تعلق ہے آپ اگر اس پر بہت غور کریں تو اس کے کئی پہلو سامنے آئیں گے مگر اس کا جو بنیادی مرکزی نقطہ ہے ایمان کو مجھنے کا وہ پہلی آیت میں جہاں ایمان کا ذکر ہے وہیں مذکور فرما دیا گیا ہے۔یؤمنون بالغیب وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور یقین کا جہاں تک تعلق ہے یقین حاضر پر ہوا کرتا ہے،شاہد پر ہوا کرتا ہے۔یقین کا تعلق قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے تین چیزوں سے ہے علم سے ہے، روئیت سے ہے اور تجربے سے ہے۔علم الیقین سب سے کمزور یقین ہے وہ مشاہدے کی پہلی شکل ہے اور عین الیقین اس سے زیادہ قوی یقین ہے یعنی جب مشاہدہ آنکھوں کے ذریعے ہو صرف کان کے ذریعے اطلاع نہ پہنچے اور حق الیقین تجربے کے یقین کو کہتے ہیں جس پر آج کی سائینٹفک دنیا زور دیتی ہے۔پس