خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 90

خطبات طاہر جلد ۶ 06 90 خطبہ جمعہ ۶ / فروری ۱۹۸۷ء مل رہی ہو کہ گزشتہ سال اتنے لاکھ تھی اب اتنے لاکھ ہیں، اب اتنے لاکھ ہیں، اب اتنے لاکھ ہیں۔تو لاکھوں میں اگر ہزاروں کو بدلنا ہے تو وقت کی کمی کے پیش نظر آپ کو احساس ہونا چاہئے کہ کتنی زیادہ توجہ اور محنت اور افرادی قوت، انفرادی اور اجتماعی قوت کی ضرورت ہے اور دعاؤں کی بڑی شدید ضرورت ہے کیونکہ دعاؤں کے بغیر اس قسم کے انقلاب نہیں پیدا ہوا کرتے۔جتنا مرضی آپ زور لگا ئیں، جتنی مرضی آپ کی صلاحیتیں بیدار ہو جائیں۔جو کام میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ آپ کے بس میں ہی نہیں ہے اگر خدا کی طرف سے غیر معمولی توفیق عطا نہ ہو۔اس لئے خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں غیر معمولی طور پر ، اپنے لئے بھی اپنی جماعت کے لئے بھی اور یہ ارادہ لے کر اٹھیں کہ ہم نے یہ کر کے دکھانا ہے پھر دیکھیں خدا کے فضل سے کتنی عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوں گی اور دعا کا تو ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قبولیت دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا تعلق بہت زیادہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔اتنا گہرا ہوتا جاتا ہے کہ دعا کرنے والی جماعت کا نہ دعا کرنے والی جماعت سے کوئی مقابلہ ہی نہیں رہتا یعنی یوں کہنا چاہئے کہ نہ دعا کرنے والی جماعتوں کا دعا کرنے والی جماعتوں سے کوئی مقابلہ ہی نہیں رہتا کیونکہ ہر دفعہ جب مانگنے والا ہاتھ اپنے ہاتھ کو بھرا ہوا دیکھتا ہے تو جو یقین اور جوشکر اور حمد کے جذبات اس پر پیدا ہوتے ہیں جو خدا سے ایک نیا تعلق مضبوط باندھا جاتا ہے وہ دعا سے غافل آدمی کو تو نصیب ہی نہیں ہو سکتا اس کا تصور بھی نہیں پہنچتا۔ابھی کل کی بات ہے مجھے ایک نواحمدی دوست کا ، جو گزشتہ سال احمدی ہوئے ہیں یہاں سے چلے گئے ہیں، ان کا خط آیا۔انہوں نے بہت ہی پتے کی بات یہ کھی اور مجھے بڑا لطف آیا اور یقین ہوا کہ واقعہ جو شخص ان تجربوں سے گزرا نہ ہو اس کا خیال ہی نہیں آسکتا کہ اس قسم کی بات میں لکھوں۔اس نے کہا احمدیت میں آکر میں نے یہ پایا وہ پایا لیکن سب سے زیادہ جو مجھے لطف آیا ہے احمدیت میں آکے وہ دعا کا ہے۔باہر عمر گنوادی لیکن ہمارے ماحول میں دعا کا ذکر سرسری کبھی آجائے تو آجائے ور نہ اسے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر اختیار ہی نہیں کیا جاتا اور ہو بھی نہیں سکتا۔جہاں غیر اللہ کے سہارے لینے کی عادت پڑ جائے ، جہاں رشوت کا سہارا لینے کی عادت پڑ جائے ، جہاں طاقتور دوست کی سفارش کا سہارا لینے کی عادت پڑ جائے ، جہاں نا جائز ذریعے اختیار کرنے کے سہارا لینے کی عادت پڑ جائے وہاں دعا تو ایک طرف بیٹھی رہتی ہے بے چاری کبھی اتفاق سے خیال آیا تو آ گیا ورنہ