خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 817
خطبات طاہر جلد ۶ 817 خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ایسے ملائک سے کیسا رابطہ ہو؟ کیونکر ان سے تعلق قائم ہو جس کے نتیجے میں انسان کو بعض مواقع پر ان کی شفاعت نصیب ہو جائے۔یہ شفاعت کا مضمون بہت ہی اہم ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔اس کے سارے پہلو تو آج بیان نہیں ہو سکیں گے مگر چونکہ بعض سوال بار بار اٹھائے جاتے ہیں اس لئے ان سے تعلق رکھنے والے بعض پہلو میں اس آیت کی روشنی میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پہلی بات تو یہ قابل غور ہے کہ وہ فرشتے ہیں کون اور کیسے ان کا علم ہو اور کیا ان سے ذاتی تعلق قائم ہو اور کیا بعض فرشتوں کو بعض دوسرے فرشتوں پر ترجیح دی جائے اور اس کے نتیجے میں جس طرح عیسائیوں میں بعض Saints کے ساتھ تعلق قائم کر لیا جاتا ہے یا بگڑے ہوئے زمانے کے بعض مسلمانوں میں بعض پیروں کے ساتھ محبت کا تعلق قائم کر لیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہر مشکل کے وقت مشکل کشائی کریں گے۔کیا نعوذ باللہ من ذالک اسی قسم کا مضمون بیان ہوا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ اس سے بالکل مختلف مضمون ہے اور ملائک کے متعلق قرآن کریم ہمیں فرماتا ہے کہ تمام ملائک پر ایمان لانا ضروری ہے اور جس طرح تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے اور ایک نبی اور دوسرے نبی کے درمیان فرق نہیں کیا جاسکتا رسالت کے اعتبار سے وہی مضمون ملائک کے اوپر بھی چسپاں ہوتا ہے اور کسی فرشتے کے ساتھ ایسی دوستی اور ایسا تعلق کہ کسی دوسرے فرشتے کے ساتھ تعلق توڑنے پر منتج ہو جائے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میرا تو فلاں فرشتہ ہے اور تمہارا فلاں فرشتہ ہے تمہارا فرشتہ تمہاری مدد کرے گا اور میرا فرشتہ میری مدد کرے گا اور اس طرح کائنات میں شرک کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے۔اس لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تعلق کو سمجھا جائے پھر باقی مضمون خود بخو د واضح ہو جائے گا اور جو بظا ہر ٹکراؤ کی اور شرک کی شکلیں ابھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں وہ ساری آنا فانا نظر سے غائب ہو جائیں گی یعنی بے حیثیت اور بے معنی شکلیں ہیں ان کا اس آیت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ملائک کے مضمون کو قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے مختلف آیات میں بیان فرمایا اور جو ملائک کے کام بیان فرمائے گئے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کائنات کا ہر قانون بعض ملائک کے