خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 712
خطبات طاہر جلد ۶ 712 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء گزر چکے ہیں غیر صحابہ تابعین جو پہلے درجے کے تابعین تھے جنہوں نے صحابہ سے تربیت پائی ان میں سے بھی اکثر فوت ہو چکے ہیں۔اس لئے یہ کہنا تو بہر حال اس دفتر کے متعلق درست نہیں ہوگا کہ ان کی تعداد بھی باقی دفاتر کی طرح ترقی کر رہی ہے اور ان کا چندہ بھی باقی دفاتر کی طرح ترقی کر رہا ہے۔چندے کے لحاظ سے تو ممکن ہے کہ ترقی ہو یعنی ظاہری معنوں میں کہ جو تھوڑے سے رہ گئے ہیں ان کی تو فیق بہت بڑھ چکی ہے لیکن تعداد کے لحاظ سے تو یقیناً ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ تعداد زیادہ ہو رہی ہے لیکن اس میں ایک اور پہلو ترقی کا ایسا نکل آیا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ کہا تھا کہ : دفتر میں ہر پہلو سے ترقی ہے۔تقریباً تین سال پہلے میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ دفتر اول میں شامل ہونے والوں کی قربانیاں اگر تو روپے پیسے میں جانچی جائیں تو بہت ہی معمولی دکھائی دیں گی دنیا کو لیکن اگر آمد کی نسبت اور حالات کے موازنے کے ساتھ ان پر غور کیا جائے اور اس کو اخلاص کے پہلو سے پرکھا جائے جو قربانی کرنے والا اپنی قربانی میں شامل کر دیتا ہے تو ان جیسا کوئی دفتر قیامت تک اور بھی پیدا نہیں ہو سکتا وہ السابقون الاولون ہیں ان میں ایک بڑی تعداد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تربیت پانے والے صحابہ رضوان اللہ یھم کی تھی جو غیر معمولی اخلاص اور محبت سے مرقع تھے وہ لوگ ایسی تصویریں ہیں جو بار بار آسمان پر دکھائی نہیں دیا کرتیں۔ایسے وقت کے لوگ جو آ کے گزر جاتے ہیں اور پھر یاد میں رہ جاتی ہیں ان عظیم الشان صورتوں کی جو ہمیشہ کے لئے اپنے نقوش تاریخ میں جما دیتی ہیں۔اس پہلو سے مجھے خیال آیا کہ اس دفتر کو بھی ہمیشہ کے لئے زندگی بخشنی چاہئے اس دفتر کا حق ہے کہ ہمیشہ زندہ رہے اور کبھی بھی قربانی کرنے والوں کے ساتھ یہ دفتر نہ مرے۔چنانچہ میں نے یہ تحریک کی کہ وہ سب خاندان جن کے بزرگ اس دفتر میں شامل تھے وہ اپنی طرف سے جو چندہ دیں وہ تو دیں گے ہی وہ اپنے بزرگوں کی یادیں زندہ رکھنے کے لئے اور ان کی نیکیوں کو زندہ رکھنے کے لئے قیامت تک عہد کریں کہ وہ پھر آئندہ ان کی آنے والی نسلیں ان کے نام پر وہ تحریک جدید کا چندہ ہمیشہ ادا کرتی رہیں گی اس تحریک کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر سال کھاتوں میں کچھ اوراضافہ ہورہا ہے۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ دفتر بھی ترقی پذیر ہے