خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 619 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 619

خطبات طاہر جلد ۶ 619 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء آگے پہنچانے کی تو آپ جراثیم کے شکار کے لئے ایک موزوں زمین کے طور پر تیار بیٹھے ہیں، آپ پر حملہ ہوسکتا ہے۔اس واسطے سے آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں آج کی نسل پر نہیں تو اگلی نسل پر جب بھی خطرے کا وقت آئے گا آپ دفاع کے قابل نہیں رہیں گے۔اس لئے غیبت کے خلاف جو قرآن کریم نے عظیم الشان تعلیم دی ہے اسے معمولی نہ سمجھیں۔چوکس ہو کر اس کے خلاف ہمیشہ نگران رہیں اور اپنی نسلوں کو بھی نگران کریں۔عجیب بات ہے کہ غیبت جہاں سے پھوٹتی ہے، جہاں زیادہ بلتی ہے یعنی عموما مستورات میں ان کی غیبت عموما قومی طور پر اتنی نقصان دہ نہیں ہوا کرتی کیونکہ ان کی غیبت کی سطح چھوٹی ہوتی ہے۔عموما عورتوں کی باتیں عورتوں کے خلاف کسی کے لباس پر طعنہ، کسی کی ادا ئیں خراب بتائی جاتی ہیں، کسی کے کردار کے اوپر معمولی ساحملہ لیکن مردوں میں جب یہ بیماری پھیلتی ہے تو نہایت خطرناک شکل اختیار کر جاتی ہے۔ایک تو یہ کہ مردوں کو ویسے اپنے کاموں کی نوعیت کے لحاظ سے زیب نہیں دیتی اور دوسرے وہاں قومی نقصان پہنچانے کا موجب بنتی ہے۔عورتوں میں آپ بہت کم سنیں گے کہ انتظامی امور کے متعلق بحثیں ہو رہی ہوں کہ فلاں منتظم اعلیٰ یوں کرتا ہے اور فلاں یوں کرتا ہے ان بیچاریوں کی غیبتیں بھی چھوٹی چھوٹی کپڑوں کے متعلق ہنجروں کے متعلق اسی قسم کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے متعلق تھوڑا سا چسکا پورا کیا اور ایک مردہ بہن کا گوشت کھایا اور چھٹی کر لی لیکن جب مرد غیبت کرتے ہیں تو وہ پھر بڑی تباہی مچاتے ہیں وہ تو یوں لگتا ہے جیسے قبرستان اکھیڑ اکھیڑ کر کھائے جارہے ہیں اور پھر بھی بھوک بند نہیں ہوتی ان کی۔اس لئے بہت خطرناک بیماری ہے قرآن کریم نے بے وجہ اس پر زور نہیں دیا۔صلى الله آنحضرت ﷺ نے متعدد بار ، بارہا سوسائٹی کو غیبت سے پاک رکھنے کے لئے نصائح فرمائیں اور افواہیں پھیلانے والوں کو باز رکھنے کی تلقین فرمائی۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ تم پر پھر ایسے لوگوں کو مسلط کرے گا، ایسے مومنوں کو مسلط کرے گا جو پھر تمہیں اس کی سزا دیں گے۔یعنی یہ نہ سمجھو کہ یہ کمزوری کی حالت اسی طرح رہے گی، یہ کمزوریاں اس میں بڑی عظیم الشان خوشخبری ہے۔فرمایا یہ جو غیبت پھیلانے والے اور غلط باتیں پھیلا کر مسلمانوں کے حوصلے کمزور کرنے والے نیچے گرانے والے لوگ ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں یہ غالب