خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 592
خطبات طاہر جلد ۶ 592 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء ہیں یا ان گہری کھڈوں کی طرف جن میں ایک لحظہ کی غلطی بھی انسان کو اگر گرا دے تو اس کے جسم کے پر نچے اُڑ جائیں اور بسا اوقات بیچ میں سے چٹانیں ایسی ابھری ہوئی ہوتی ہیں کہ زمین کی گہرائی تک پہنچنے سے پہلے پہلے ہی انسان کے چیتھڑے اڑ سکتے ہیں۔لیکن دوسری طرف وہ بلند پہاڑیاں ہیں، بلند چوٹیاں ہیں جو ایک کے بعد دوسری ابھرتی چلی جاتی ہیں اور انسان جب ایک طرف نیچے کی طرف نگاہ کرتا ہے تو پھر بلندی کی طرف بھی دیکھتا ہے۔وہ بلند پہاڑیاں اس کو اپنی طرف آنے کی دعوت دیتی ہیں اور اس دعوت میں کتنی قوت ہوتی ہے کہ انسان تھکا ہارا بھی ہو، خواہ پاؤں دکھ رہے ہوں یا جسم کے عضو عضو میں تکلیف محسوس ہوتی ہو بلندی دکھائی دیتی ہے اس کے ساتھ ہی ایک حوصلہ بڑھتا ہے اور انسان یہ عزم کرتا ہے کہ اچھا جیسا بھی ہو میں اس چوٹی تک ضرور پہنچ جاؤں گا اور جب وہ اس چوٹی تک پہنچتا ہے تو اس سے آگے ایک اور چوٹی دکھائی دینے لگتی ہے اور جب پھر اس چوٹی تک پہنچتا ہے تو اس سے آگے ایک اور چوٹی دکھائی دینے لگتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔دنیا کی رفعتوں میں تو کوئی سلسلہ بھی لامتناہی نہیں ہوا کرتا لیکن جہاں تک روحانی عظمتوں اور مذہبی رفعتوں کا تعلق ہے یقیناً یہ سلسلہ لامتناہی ہے۔اس لئے دنیا کی چوٹیاں سر کرنے والے ایک اس بات پر تو ضرور امید لگائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اس چوٹی کے بعد اگر ایک اور بھی آئی اور ایک اور بھی آئی تو آخر اس سلسلے کا کوئی انجام ہوگا اور اس کے بعد اس بلندی پر بیٹھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی بلندیاں سر کی جاسکتی تھیں وہ سب ہم نے سر کر لیں لیکن ایک مذہبی ترقی کرنے والی جماعت یا روحانی ترقی کرنے والا فرد بلندیوں کی طرف سفر تو کرتا رہتا ہے خدا اسے نئی منازل سر کرنے کی توفیق بھی عطا فرماتا رہتا ہے لیکن اسکی سوچ میں یہ عنصر کبھی بھی داخل نہیں ہوا کہ یہ آخری چوٹی ہے جو ہم سر کر لیں گے اور اس کے بعد اطمینان سے بیٹھیں گے۔اس لئے ساری زندگی جدو جہد ہے۔زندگی کے آخری سانس تک مومن کا جہاد جاری رہتا ہے۔موت کے بعد کیا ہے یہ ہم نہیں جانتے لیکن یہ ضرور اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ خدا جس نے یہ سلسلہ ترقیوں کا جاری فرمایا ہے اس نے موت کے بعد بھی کوئی سلسلہ ترقیوں کا ضرور جاری رکھا ہو گا ورنہ یہ ممکن نہیں کہ اتنے لمبے ترقیات کے دور سے انسان کو گزار کر خدا تعالیٰ کسی ایسے مقام پر کھڑا کر دے جہاں پھر لیٹ رہنا ہے اور کھانا کھانا ہے یادودھ پینا ہے اور نظارے دیکھنے ہیں اور کوئی بھی کام نہیں کرنا، کوئی مزید بلندی نہیں۔اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں اور