خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد ۶ 591 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء ابتلا ترقی کا باعث بنتے ہیں۔بنگلہ دیش میں مخالفانہ کاروائیاں اور جماعتی رد عمل تعمیر بیوت الذكر، بيوت الحمد اور تحریک شدھی کے لئے مالی تحریک ( خطبه جمعه فرموده ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جماعت احمد یہ جس ابتلا کے دور سے گزر رہی ہے یہ اس نوعیت کا ابتلا نہیں ہے کہ جس کا جلد کنارہ آجائے کیونکہ جتنے لمبے سفر ہوں اسی کی نسبت سے راہ کی مشکلیں بھی ہوا کرتی ہیں۔ترقی کے جس دور میں جماعت احمد یہ داخل ہورہی ہے اور اگلی صدی کی شاہراہ جن بلند تر اور عظیم تر منازل کی طرف جماعت احمدیہ کو بلا رہی ہے ان کے نتیجے میں کچھ ایسے بھی ہم پر ابتلا آرہے ہیں اور آئیں گے جن میں سے ترقی کے لئے قوموں کا گزرنا ایک تقدیر مبرم ہے اور آج تک کبھی کوئی مذہبی جماعت بھی ان مشکلات سے گزرے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کر سکی لیکن جتنا لمبا یہ ابتلا کا دور چل رہا ہے یا آگے چلے گا اسی کی نسبت سے خدا کے فضل ضرور نازل ہوں گے۔اس لئے جہاں ایک طرف نگاہ کر کے خوف پیدا ہوتا ہے وہاں دوسری طرف نظر کر کے حوصلے بڑھتے ہیں اور نئی امنگیں اور نئے ولولے پیدا ہوتے ہیں۔وہ لوگ جن کو پہاڑوں پر چڑھنے کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ دوطرف ہی نظریں جایا کرتی