خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 343
خطبات طاہر جلد ۶ 343 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء وہاں ان دونوں میں ایک مجھے یاد نہیں کون تھا اس کو خطرہ لاحق ہوا کہ وہ ڈوبنے لگا تو دوسرے نے بھی چھلانگ لگا کر بچانے کو کوشش کی اور دونوں ڈوب گئے۔بالکل نو جوانی کی وفات ہے جس سے والدین پر صدمہ کا بہت ہی گہرا اثر ہے۔جہاں اُن کے لئے دعا مغفرت ہوگی وہاں ان کے والدین کے لئے خصوصیت کے ساتھ صبر جمیل کی دعا بھی کریں۔اللہ تعالی اپنے فضل سے اس کمی کو باقی نوجوانوں کے اخلاص بڑھا کر پورا فرمائے۔مکرمہ نسیم اختر صاحبہ اہلیہ ظہور الدین احمد صاحب صدر جماعت منگلا ڈیم ، مرحومہ ہمارے مسعود احمد صاحب جہلمی واقف زندگی جو مبلغ انچارج سوئٹزر لینڈ ہیں ان کی نسبتی ہمشیرہ تھیں۔مکرم غلام احمد صاحب بٹ ، مکرم محمد سلیم بٹ جرمنی کے والد تھے۔وہ لکھتے ہیں کہ خاندان میں اکیلے احمدی تھے یعنی آبائی خاندان میں ، بچوں میں تو آگے خدا کے فضل سے احمدی ہیں۔مکرم احسان الہی صاحب جنجوعہ ایڈووکیٹ معروف شخص ہیں۔اہل ربوہ ان کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔چنیوٹ میں ایڈووکیٹ تھے اور دوستوں کی بڑی خدمت کیا کرتے تھے۔مکرم ولی الرحمن صاحب سنوری کا رکن حدیقہ المبشرین کے خسر تھے۔شریفاں بیگم صاحبہ زوجہ حکیم محمد کامل صاحب مرحوم سکنہ جھنگ کے متعلق بھی محمد یعقوب صاحب نے درخواست کی ہے کیونکہ یہ ان کی ہمشیرہ تھیں۔اسی طرح طیبہ حبیب صاحبہ نے اپنے چا محمد یونس صاحب کی نماز جنازہ کی درخواست کی ہے۔طیبہ حبیب صاحبہ مولوی روشن دین صاحب مبلغ سلسلہ کی بہو ہیں۔ماڈل ٹاؤن فیصل آباد سے اطلاع ملی ہے کہ عبد الغفور صاحب جو شیخ رحمت اللہ صاحب صحابی کے فرزند تھے یہ حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئے ہیں۔ان سب کی نماز جنازہ غائب جمعہ کے معا بعد ہوگی انشاء اللہ۔