خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد ۶ 200 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء حیثیت ہی کیا ہے۔ایک بالکل ذرہ لاشئے ہے اور اس کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ طلب، یہ انتظار کہ یہ تو بہ کر کے واپس آجائے۔کتنا حیرت انگیز مضمون ہے، کتنا گہرا عشق کا مضمون ہے۔اس مضمون کے بعد پھر وہ حدیثیں گناہ کی جرات کیسے دلا سکتی ہیں جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر وہ تو بہ کرتا ہے، گناہ کرتا ہے پھر میں اُسے معاف کر دیتا ہوں۔کہاں معافی کہاں یہ کہ خدا منتظر ہو اور تو بہ کر کے ہمیشہ کے لئے اس کی گود میں یہ بندہ آجائے ، زمین آسمان کا فرق ہے ان دو باتوں میں۔اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺے جہاں گناہ گاروں کے لئے ایک امید کی کھڑ کی کھولتے تھے ایک امید کی کرن ان کے دلوں پر پڑتی تھی رسول اکرم ﷺ کے پیار کے اور رحمت کے نتیجے میں، ایک امید کا دروازہ کھل جایا کرتا تھا ان کے لئے اور ہمیشہ یہ کھڑ کی کھلتی رہے گی ، یہ دروازے کھلتے رہیں گے لیکن ساتھ ہی حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی کی ایک عجیب شان ہے کہ اس بخشش کی امید کے باوجود گناہ پر جرات آپ نے نہیں دلائی اور سب باتوں کا آخری ماحصل یہ ہے کہ انسان گناہ سے دل اچاٹ کر بیٹھتا ہے، گناہ کی اس کے سامنے کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی ، لطف نہیں رہتا اس گناہ میں اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کا لطف رفتہ رفتہ اس کے دل پر غالب آتے چلے جاتے ہیں۔الله پھر آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ کی محبت اور رحمت کے حصول کے لئے جو تمنا دلوں میں پیدا کی ہے مختلف ذرائع سے وہ بھی ایک بڑا وسیع مضمون ہے۔آنحضرت ﷺ ایسے رنگ میں اپنے رب کا ذکر فرماتے ہیں اس کی بخشش کا، روز جزا کا کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کی تمنا بے اختیار دل میں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے اور پھر بعض دفعہ اس رنگ میں ہیبت بھی پیدا فرمائی ہے، خدا تعالیٰ کی ہیبت کا تصور باندھا ہے اس طرح کہ جو رہا سہا گناہ کا جذبہ یا گناہ کی لذت کا تعلق ہے وہ بھی اس ہیبت کے نیچے آ کے بالکل جل کے خاکستر ہو جاتا ہے لیکن یہ تبھی ہوسکتا ہے اگر بار بار حضرت رسول اکرم ﷺ کے ارشادات کا مطالعہ کیا جائے ، آپ کی سیرت پر غور کیا جائے ، آپ کے ارشادات میں ڈوب کر آنحضرت ﷺ کے تجارب میں حصہ پایا جائے۔آنحضرت ﷺ کے ارشادات میں ڈوب کر جو میں نے کہا کہ آپ کے تجارب میں سے حصہ پایا جائے یہ اس وجہ سے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کا کوئی بھی ارشاد نہیں ہے جو تجربے پر مبنی نہ ہو۔عام انسانوں کے جوارشادات ہیں ان میں ایک بھاری حصہ سماعی ہوتا ہے۔نیکوں سے باتیں سنی ہوئی صلى الله