خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد ۶ 195 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء پس سارے ذرائع جتنے بھی سوچے جاسکتے ہیں ان میں سب سے آسان ذریعہ یہ ہے کہ کسی سچے محبت کرنے والے کی زبان میں خدا کا ذکر کیا جائے اور اس پہلو سے جب حضرت اقدس محمد مصطفی میت ہے کے ارشادات پر آپ نگاہ ڈالتے ہیں تو زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے ایسے ارشادات ملتے ہیں جن کو سن کر اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور سچی محبت جو عمل کو دعوت دیتی ہے، فرضی محبت نہیں جس کے نتیجے میں عمل پیدا نہ ہو۔یہ مضمون ایسا ہے جو دنیا کی محبت پر غور کر نیوالوں کو نہیں سمجھ آیا۔چنانچہ مجھے اس مضمون پر غور کرتے ہوئے غالب کا ایک شعر بھی یاد آیا کہ:۔ذکر اس پری وش کا اور پھر بیان اپنا بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا (دیوان غالب صفحه : ۸۹) کہ میں نے کسی کو راز داں بنایا تھا محبت میں لیکن اس نہایت ہی حسین پری چہرہ کا ذکر ہو اور وہ بھی غالب کی زبان میں ہو تو کیسے ہو سکتا ہے کہ سننے والا عاشق نہ ہو جائے۔چنانچہ وہ جسے میں نے راز دار بنایا تھا وہ میرا رقیب بن گیا تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے زیادہ اللہ کا عاشق تو کوئی دنیا میں سوچا ہی نہیں جا سکتا اور پھر ذکر بھی آپ کی زبان سے ہو خدا کا جو عام باتوں کے علاوہ فصاحت و بلاغت میں بھی قرآن کے بعد سب سے بلند معیار رکھنے والے تھے۔اس سے لازماً بے اختیار اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے۔پھر اسی طرح خوف کا مضمون جو ہے وہ بھی آنحضرت ﷺ کی زبان ہی سے سنے میں حقیقی خوف کا علم ہوتا۔ہوتا ہے، اس کا احساس پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ اس ذکر سے سارا وجود کانپنے لگتا ہے۔تو اس مضمون پر میں مختصراً آج روشنی ڈالتا ہوں اور پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی آپ سے سن کر خدا کا ذکر جس طرح عشق کا نمونہ دکھایا، جس طرح والہانہ طور پر آپ بھی اپنے آقا کے پیچھے پیچھے اپنے رب کے عاشق ہوئے ، آپ کی زبان سے بھی اللہ کا ذکر سنتے ہوئے ہر صاحب فراست ، ہر صاحب دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ سچے عشق کے سوا یہ کلام جاری نہیں ہو سکتا اور یہ ایسا کلام ہے جو جاری ہو تو سچا عشق بھی پیدا کرتا ہے۔دل سے نکلتا ہے دل میں اثر کرتا