خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 13

خطبات طاہر جلد ۶ 13 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء بعد جب میری نظر پڑی ہندوستان کے حالات پر تو ٹھنڈھی کی وجہ سے جماعت کو وہاں بہت روپے کی ضرورت تھی اور ہندوستان کی جماعتوں میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر وہاں ھڑھی کی طرف توجہ کر سکیں اور اس کے علاوہ بھی تبلیغ کے جو میدان کھل رہے ہیں ہندوستان میں وہ غیر معمولی ہیں۔نئی نئی قوموں میں، نئے نئے علاقوں میں بڑے بڑے دروازے کھل رہے ہیں خدا کے فضل سے ترقیات کے اور جو سوئی ہوئی جماعتیں تھیں وہ جاگ اٹھی ہیں، ان کے اندر نئے ارادے پیدا ہور ہے ہیں۔اس پہلو سے ہندوستان ذہن میں تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اتنی شدت سے ٹھڈھی کے سلسلے میں ضرورت پڑے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر کی جماعتوں کو نمایاں طور پر وقف جدید میں حصہ لینے کا موقع ملا اور انگلستان کی جماعت نے بھی ماشاء اللہ دس ہزار پاؤنڈ کا وعدہ کیا جس میں سے اس وقت تک چھ ہزار سات سو وصول ہو چکا ہے باقی امید ہے انشاء اللہ آئندہ مہینے کے اندر اندر یعنی اسی ماہ کے اندر اندر وصول ہو جائے گا اور آئندہ سال کے لئے امیر صاحب انگلستان نے اس وعدے کو بڑھا کر گیارہ ہزار پاؤنڈ کر دیا ہے۔یہ انگلستان کے پہلے سال کا وعدہ ہی اتنا ہے جو وقف جدید کے آغاز کے وقت دو تین سال تک نہیں ہو سکا تھا یعنی پاکستانی روپوں میں اگر اس کو تبدیل کریں تو دولاکھ پچاس ہزار کے قریب وعدہ بنتا ہے اور وقف جدید میں پہلے سال سے پہلے دن سے ہی میں منسلک رہا ہوں اس لئے مجھے پتا ہے کہ شروع کے دو تین سال تک ہم دولا کھ سے اوپر نہیں پہنچے تھے۔تو اللہ تعالیٰ ضرورتیں بڑھا رہا ہے وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی طاقتیں بھی بڑھا تا چلا جارہا ہے، اس کا ظرف بڑھاتا چلا جا رہا ہے، اس کے دل کھولتا چلا جا رہا ہے اور کسی مقام پر بھی ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خطرہ محسوس نہیں ہوا کہ کام آپڑا ہے اور روپیہ نہیں ہے۔ایسی والہانہ محبت کے ساتھ خدا کی راہ میں جماعت خرچ کرتی ہے کہ بے مثل ہے اس وقت یہ، کوئی شک نہیں ہے اس میں، کوئی دنیا میں جماعت ایسی نہیں ہے جو پاسنگ کو بھی پہنچ سکے جماعت احمدیہ کے خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے میں اور اس کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے لمبے عرصے تک محنت کی ہے اس محنت کو بھی بھلا نا نہیں چاہئے۔آج ہمارے دل کھلے ہیں، آج ہمارے ہاتھ آزاد ہوئے ہیں اپنے بندشوں سے اور کھل کر بڑی قوت کے ساتھ اپنی جیبیں خالی کرتے ہیں خدا کی راہ میں جوش کے ساتھ۔تو یہ چیز اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ایک لمبے عرصے باون سال تک حضرت مصلح موعودؓ نے اس معاملے میں