خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 161

خطبات طاہر جلد ۶ 161 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء جزل(General) ایک فتویٰ تھا خدا کا۔معین فتویٰ تھا سب کو علم تھا کس کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔چنانچہ عبداللہ جب مرا ہے حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ وہ شخص ہے اس کے متعلق یہ یہ باتیں آئیں تو آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ نہیں اس کا نام دکھا ؤ قرآن کریم نے کہاں لکھا ہے۔معروف لوگ تھے سوسائٹی جانتی تھی اور اللہ گواہی دے چکا تھا اس کے باوجود ساری زندگی منافقوں میں سے ایک کو بھی آنحضرت مے یا آپ کے صحابہ نے کلمہ پڑھنے سے نہیں روکا۔یہ کہہ کر کہ یہ ناپاک ہیں اور جھوٹے ہیں ان کے دل میں کچھ اور ہے اور زبان سے کچھ اور جاری ہے۔آج کا مولوی دو طرح سے تجاوز کر رہا ہے اور بڑی بے باکی دکھا رہا ہے۔اول یہ تجاوز کر رہا ہے کہ جس کی خبر ان کو خدا نے نہیں دی وہ خود خبر اپنی ہاتھ میں لے رہا ہے اور خدائی کا دعوی کر رہا ہے جس کی اجازت آنحضرت ﷺ نے نہیں دی وہ بغیر اجازت کے وہ فعل کر رہے ہیں کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی واضح ہدایات کے خلاف ہے یہ بات کہ کسی کے دل کی طرف وہ بات منسوب کرو جو اس کی زبان سے جاری نہیں ہو رہی۔اس کا حق خدا کے سوا کسی کو نہیں۔جب خدا نے یہ حق استعمال فرمایا اور کھلم کھلا بتا دیا اس کے باوجود ان کے کلمہ سے نہیں روکا گیا۔یہ ان کا دوسرا تجاوز ہے۔جھوٹا الزام لگاتے ہیں خدائی کا دعوی کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد جو نتیجہ نکالتے ہیں وہ سنت محمد مصطفی ﷺ سے کھلی کھلی بغاوت ہے اور ہمیں کاٹ رہے ہیں آنحضرت ﷺ کے دامن سے یہ آیت تو ان کو اس طرح کاٹ کے پھینک دیتی ہے جس طرح کسی تیز چھری سے کسی شاخ کو دو نیم کر دیا جائے ، دوٹکڑے کر دیا جائے۔کوئی تعلق بھی نہیں رہتا اس آیت کی روشنی میں ان لوگوں کا جو ہم پر یہ ظلم کر رہے ہیں آنحضرت ﷺ اور آپ کے اسوہ حسنہ سے۔اگر واقعہ آنحضرت ﷺ کی محبت میں یہ جوش ہے اور ہمیں منافق اور جھوٹا سمجھ کے کر رہے ہیں تو پھر ان کے لئے سنت نبوی کے سوا اور کسی چیز کی پیروی کا چارہ ہی کوئی نہیں۔ایک ہی پیروی ہے جس کی محبت کا دم بھرتے ہو، جس کے عشق کے راگ الا پتے ہو جس کی غلامی پر فخر کرتے ہو اس کی پیروی کرو اس کے دشمنوں کی پیروی کیوں کرتے ہو۔اس لئے آج انہوں نے اپنے دعویٰ سے اپنا جھوٹ ثابت کر دیا ہے اپنے عمل سے بھی اپنا جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔عملاً دعوی خدائی کا کر رہے ہیں اور عملاً سنت نبویہ کے خلاف شدید بغاوت کر رہے ہیں۔