خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 92

خطبات طاہر جلد ۵ 92 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۸۶ء خطبہ میں ساسیں پکڑی جائیں گی۔ بعض بیویاں خاوندوں کی شامت کا تماشا د یکھنے کا انتظار کر رہی ہیں بعض خاوند بیویوں کا تماشا د یکھنے کے منتظر بیٹھے ہیں ، بعض بچے ہیں جنہوں نے والدین کی بدخوئی کی شکایت کی ہوئی ہے ، وہ یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ اس دفعہ والدین پکڑے جائیں گے اور بعض والدین ہیں جو رونا روتے ہیں اپنے بچوں کی بے راہ روی کا ، ان کی بد خلقی کا ، ان کی بے دینی کا ، ان کے دل میں یقین ہے کہ آج ایسے بچوں کا ذکر کیا جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ خطبہ کسی کے بھی خلاف نہیں نہ ساسوں کے خلاف ہے نہ بہوؤں کے خلاف ہے نہ بیویوں کے خلاف ہے، نہ خاوندوں کے خلاف ہے، نہ بچوں کے، نہ والدین کے بلکہ محض ان برائیوں کے خلاف ہے جو جس طبقے میں بھی رونما ہوں اس طبقہ کو مجرم بنادیتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں معاشرے میں نفرتوں کی گس گھلنے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کو یہ سبق ہی نہیں دیا گیا کہ انسان سے نفرت کرے۔ برائیوں سے نفرت کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس لئے جب مثال کے طور پر کہیں ساس کا نام لیا جائے یا خاوند کا یا بیوی کا یا بہو کا یا بچوں کا یا ماں باپ کا تو اس سے ہرگز یہ مراد نہ لی جائے کہ کسی ایک خاص طبقہ کو مطعون کیا جا رہا ہے۔ یہ تو سب برتن ہیں ان برتنوں میں جہاں جہاں حسن جھلکے گا یہ برتن خوبصورت دکھائی دینے لگیں گے اور جہاں جہاں بدی جلوہ نمائی کرے گی وہاں یہ بدصورت اور بد زیب دکھائی دینے لگیں گے۔ اس لئے ان کا ذکر محض تمثیلاً ہو گا کسی ایک طبقے کے خلاف کوئی بات نہیں ۔ اصولاً قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کا عمل ہمیں جو تعلیم دیتا ہے وہی تعلیم ہے جو اس خطبہ کا محرک ہے۔ حقیقت یہ ہے سب برائیوں کی جڑ سنت نبوی سے گریز ہے اور جب میں سنت نبوی کہتا ہوں تو مراد یہ ہے کہ قرآن کریم کی عملی صورت سے گریز ہے۔ بسا اوقات ایک انسان قرآن کریم کے خلاف بغاوت نہیں کرتا اور بظاہر یہ یقین رکھتا ہے کہ میں سارے قرآن پر ایمان لاتا ہوں کیونکہ وہ لفظوں میں تعلیم ہے اور لفظوں میں تعلیم خواہ کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو جب تک عمل میں نہ ڈھلے اس کی سختی پوری طرح محسوس نہیں ہوتی ۔ اس لئے قرآن کریم کے خلاف بغاوت نہ کرتے ہوئے بھی سنت کو اختیار کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ قرآن کریم کے لفظ جب عمل میں ڈھلتے ہیں تو اسی کا نام سنت محمد مصطفى ع بن جاتا ہے اس لئے قرآن کو عمل میں ڈھالنا یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے اور سنت کی پیروی بظاہر ثانوی درجہ رکھتی ہے لیکن اس پہلو سے اولیت اختیار کر جاتی ہے کہ قرآن کی لفظی