خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 93
خطبات طاہر جلد۵ 93 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء پیروی کے مقابل پر سنت کی عملی پیروی بہت ہی زیادہ مشکل کام ہے۔تو معاشرہ میں بھی جتنی خرابیاں ہیں ان میں سے ہر ایک کی تان اسی بات پر جاکے ٹوٹے گی کہ سنت نبوی سے گریز کیا گیا ہے اور بعض قسم کے اعمال میں مبتلا ہوتے ہوئے یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ اگر آنحضرت ﷺ اس صورت حال میں ہوتے تو ان کا کیا رد عمل ہوتا ؟ آپ نے کیا نمونہ دکھانا تھا ؟ اور وہ نمونہ اتنا واضح ہے اتنا کھلا کھلا ہے اس میں کوئی بات بھی پوشدہ نہیں اور ہر مسلمان کے لئے یہ آسان ہے کہ اس نمونے پر نظر ڈالے، اس کا تصور کرے اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے لگے۔جتنے جھگڑے فضاؤں میں جار ہے ہیں اگر چہ سارے جھگڑے قضاؤں میں نہیں جار ہے مگر جتنے بھی قضاؤں میں جھگڑے جار ہے ہیں ان میں سے ہر جھگڑے کا تجزیہ یہی ہوگا کہ فریقین میں سے دونوں کسی نہ کسی پہلو سے سنت سے گریز کر رہے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے عائلی خرابیوں سے بچنے کے لئے سب سے بنیادی تعلیم یہ بیان فرمائی اور جس پر عمل کر کے دکھایا کہ اپنے خلق کی حفاظت کرو، حسن خلق اختیار کرو، اگر تمہارا خلق عموماً حسین ہے، نرم ہے، گفتگو کا سلیقہ جانتے ہو اور وہ بنیادی صفات تم میں پائی جاتی ہیں جس سے انسانیت حسین بنتی ہے تو اس کے نتیجہ میں اکثر مواقع خرابیوں کے پیدا ہی نہیں ہو نگے کیونکہ جب دونوں طرف معاملہ کرنے والے حسن خلق کی زینت سے آراستہ ہوں، اچھے اخلاق رکھتے ہوں تو بہت سے ایسے مواقع پیدا ہی نہیں ہوتے جن کے نتیجہ میں بعض دفعہ بڑے بڑے فساد پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک بات ایک انسان سختی کی کہہ دیتا ہے اگر دوسری طرف کوئی سخت روانسان ہے تو وہ اس سے بھی زیادہ سخت بات مقابل پر کہتا ہے اور چھوٹی سی بات بڑھتے بڑھتے بعض دفعہ قتل وخون پر منتج ہو جایا کرتی ہے۔یعنی ایسی ایسی باتوں پر قتل ہوتے دیکھتے ہیں۔رمضان شریف میں دو آنے کے پکوڑے خریدنے کے اوپر پر ایسی گفتگو چل پڑی کہ تیرے پکوڑے خراب ہوتے ہیں، اس نے کہا تو ایسا ہے، تیرا منہ خراب ہے، تیری ذات خراب ہے ، رفتہ رفتہ ایک دوسرے کو جواب دیتے دیتے یہاں تک بات پہنچ گئی کہ ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا اور اس طرح رمضان کا روزہ ٹوٹا ایک شخص کا۔حیرت ہوتی ہے رمضان کے مہینہ میں خصوصاً جب میں اخبارات میں جرائم کے واقعات پڑھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح جب انسان بنیادی طور پر بدخلق ہو تو رمضان کا مبارک مہینہ بھی اس کو فتنہ وفساد سے بچا نہیں سکتا۔