خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 87
خطبات طاہر ۵ صلى الله علوس 87 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۶ء کی عظمت کو ثابت ہی نہیں کر سکتے ۔ کروڑ ہا سیرت کی آپ کتا بیں لکھ دیں ۔ ارب ہا میلا دمنا ئیں، ہر دن کو ایک میلا د شریف میں تبدیل کر دیں اور ہر رات کو سیرت کے نغمے گاتے ہوئے گزار دیں مگر حقیقت میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اخلاق کا دنیا کو قائل نہیں کر سکتے جب تک آپ صاحب خلق نہ بن کے دکھائیں اور پھر یہ فخر کے طور پر پیش نہ کریں کہ یہ سب کچھ ہم نے آقا سے پایا ہے۔ بڑھانے کے۔ ع تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے یہ گیت تو تب زیب دیتا ہے اگر آپ کے قدم آگے بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہوں لیکن بد قسمتی کی انتہا ہے، ایک عجیب دردناک المیہ ہے کہ اس آقا کے غلام ہو کر جسے مکارم اخلاق کو آگے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ بلند ترین چوٹیاں جو اخلاق کی آپ سے پہلے تمام بنی نوع انسان نے قائم کی تھیں محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے اس لئے معبوث کیا گیا کہ ہر خلق کی چوٹی سے اس خلق کو اٹھاؤں اور بلند تر مقام پر کھڑا کر کے دکھا دوں کہ یہ ہے اصل مقام ۔ ان خلق کے غلام ہو کر ، ان ہو د کی طرف منسوب ہو کر آج امت مسلمہ کے اخلاق کا یہ عالم ہو کر دنیا کی ایرا غیرا اور عام دنیا کی لا مذہب قو میں بھی ان کے اوپر تمسخر کریں اور تشنیع کریں اور کہیں کہ ہاں یہ اخلاق ہیں ۔ دہر یہ بھی ہنس رہے ہیں آج ۔ بگڑے ہوئے مذاہب والے بھی ہنس رہے ہیں اور مشرک بھی ہنس رہے ہیں، فلسفہ دان بھی ہنس رہا ہے اور دنیاوی Civilization اور تہذیب و تمدن کے علمبردار بھی ہنس رہے ہیں۔ کیا جماعت احمد یہ نے اس میدان میں آگے قدم بڑھایا ہے یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اتنے گوشے ابھی خلا کے باقی ہیں ۔ اخلاق کی طرف توجہ دینے کا اتنا بڑا کام ابھی باقی ہے کہ اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تو ہم دنیا کے معلم قرار نہیں دیئے جاسکیں گے۔ اگر اس کے باوجود ہمیں دنیا کا مربی بنا دیا گیا تو یہ دنیا پر احسان نہیں ہوگا۔ اس لئے جوں جوں فتح کے دن قریب آرہے ہیں ان ان گوشوں پر میری نظر پڑتی ہے اور میں خدا کے سامنے حول سے کانپنے لگتا ہوں کہ اے خدا محض تیرا فضل ہے جو ان حالات کو تبدیل فرمادے اور ہمیں وہ عظمتیں عطا فرما جن عظمتوں کی خاطر تو نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ورنہ ہر قدم پر کمزوریاں ہیں ، ہر قدم پر رخنے ہیں ۔ ایک خلا تو نہیں ہر سمت میں کئی خلا ہیں ۔ جب ہم غیروں کے مقابل پر اپنے آپ کو دیکھتے ہیں تو یقیناً ایک عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم دوسروں کے مقابل پر اپنے اخلاق پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک طمانیت کا احساس