خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 88

خطبات طاہر ۵ 88 خطبہ جمعہ ۲۴ / جنوری ۱۹۸۶ء بھی پیدا ہوتا ہے لیکن میں آج جو بات کہ رہا ہوں وہ یہ نہیں کہ نعوذ باللہ من ذلک جماعت احمد یہ دوسری قوموں کے مقابل پر دوسرے مذاہب اور فرقوں کے مقابل پر ، آج کم اخلاق رکھنے والی ہے۔میری نظر تو محمد مصطفی ملے کے خلق عظیم پر ہے۔میں اس لئے یہ موازنہ کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ ادنی پر راضی ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔اپنے سے نیچے کے اخلاق کے ساتھ آپ نے موازنہ کیا تو آپ ترقی نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ سمجھیں گے کہ آپ کو سب پر فوقیت حاصل ہوگئی ہے۔اگر دیکھنا ہے ترقی کی نظر الله سے آگے بڑھنے کی خاطر تو ہمیشہ محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق پر اپنی نظریں مرکوز رکھیں پھر دیکھیں گے آپ کہ آپ کو کتنا محرومی کا احساس بڑھے گا۔کیا کچھ پانے کی نئی تمنا ئیں آپ کے دل میں پیدا ہوں گی۔ہر وقت ایک لگن لگی رہے گی کہ ہمیں یہ بھی بنا تھا اوروہ بھی بنا تھا اور وہ بھی بنا تھا اوروہ بھی بننا تھا۔ابھی تو ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے۔پس یہ وہ نظریہ ہے جس کی خاطر مجھے چند باتیں آپ کے سامنے پیش کرنا ہونگی۔آج چونکہ خطبہ کا وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے میں اس مضمون کے دوسرے حصے کو آئندہ جمع تک کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔بہت سی ایسی معاشرتی خرابیاں جماعت میں پیدا ہو چکی ہیں جس نے جماعت کی عائلی زندگی کو بھی تباہ کر دیا ہے اور آئندہ نسلوں پر بہت برے رنگ میں اثر انداز ہو سکتی ہے۔بیسیوں خط مجھے روزانہ ملتے ہیں ایسی باتوں کے جن کو پڑھ کر شدید تکلیف پہنچتی ہے۔احمدی گھروں میں خاوند ایسے ہیں اور بیویاں ایسی ہیں اور بہوئیں ایسی ہیں اور ساسیں ایسی ہیں اور نندیں ایسی ہیں، نندوئی ایسے ہیں۔گھروں میں وہ فیکٹریاں ہیں در حقیقت جہاں سے گلیاں سنورتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں۔گلیوں میں جو جرم پلتے ہیں وہ بھی دراصل گھروں سے نکل کر گلیوں میں جمع ہوا کرتے ہیں۔گلیوں میں جو نیکی کے کام جاری ہوتے ہیں وہ بھی پہلے گھروں میں بنتے ہیں پھر گلیوں میں ظاہر ہوا کرتے ہیں۔اس لئے اگر آپ نے معاشرے کو درست کرنا ہے تو سب سے چھوٹے یونٹ یعنی گھر پر نظر کرنی ہوگی۔گھر کو جنت میں تبدیل کئے بغیر نہ آپ اپنے شہر کو جنت میں تبدیل کر سکتے ہیں نہ عالم کو جنت میں جنت میں تبدیل کرنے کا دعوی کر سکتے ہیں۔اس لئے انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق آئندہ خطبہ میں خصوصیت کے ساتھ چند معاشرتی بیماریوں کا ذکر کر کے میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں گا