خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 83

خطبات طاہر ۵ 83 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۶ء ہے۔ لیکن بنیادی طور پر عورت اور مرد کے برابر حقوق کو ضرور تسلیم کرتا ہے اور یہاں یہ ذکر اس لئے فرمایا گیا ہے کہ مرد کو عورت پر بھی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ یہ نہ سمجھنا کہ چونکہ تم مرد ہو اس لئے تمہیں حق ہے کہ کسی عورت کی تحقیر کرو اور اس کی تذلیل کرو۔ جس طرح بعض قوموں میں بعض محاورے پائے جاتا ہیں جو عورت کی برائیوں کے اظہار پر وقف ہوتے ہیں یعنی یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت ذات ہے تو اس میں یہ بات ضرور پائی جائے گی ۔ مقابل پر عورتوں نے شاید مردوں کے لئے بھی کچھ ایجاد کئے ہوں گے۔ مگر قرآن کریم فرماتا ہے اس حیثیت سے ہرگز کوئی تفریق نہیں ہو سکتی ۔ عزت کے لحاظ سے، بلند مرتبے کے لحاظ سے، صرف اور صرف ایک معیار ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ وہی تم میں سب سے معزز ہے جو زیادہ خدا کا خوف رکھنے والا ہے۔ اِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور خوب خبر رکھتا ہے اس بات کی کہ تم لوگ کیا کرتے ہو، کیوں کرتے ہو، تمہارے اعمال کی کنہ کیا ہے، مقصد کیا ہے تمہاری باتوں اور تمہارے افعال کا ، ہر بات سے اول سے آخر تک خوب باخبر ہے اور ان کے پیدا ہونے والے نتائج سے بھی باخبر ہے۔ دور دراز اثرات جوان کے مرتب ہوں گے ان پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ صفات باری کے مظہر اتم تھے ان معنوں میں کہ انسان کو جتنی بھی عروسه صلى الله صلى الله استطاعت ہے خدا کی صفات میں رنگین ہونے کی اس کو آنحضرت ﷺ نے درجہ کمال تک پہنچا دیا اور درجہ کمال تک پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صفات حسنہ میں سب سے آگے بڑھ گئے ۔ اور قرآن صلى الله عروسه کریم نے بھی اسی مضمون کو آنحضرت اللہ کے حق میں باندھا اور حضرت رسول اکرم ﷺ نے بھی اسی عروسه صلى الله مضمون کو اپنے الفاظ میں بیان فرمایا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔ انما بعثت لاتمم مكارم الاخلاق صلى الله ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں اعلی ترین اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں ۔ حضرت امام مالک موطا میں یہی روایت درج فرماتے ہیں مگر ایک لفظی فرق صلى الله وسام کے ساتھ ۔ وہ فرماتے ہیں ہمیں تو یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا بعثت لاتمم حسن الاخلاق ) موطا اما لك الكتاب الجامع ) کہ میں اس لئے مبعوث فرمایا گیا ہوں کہ میں اخلاق کے حسن کو اس کے درجہ کمال تک پہنچا دوں ۔ بنیادی طور پر مضمون ایک ہی ہے۔