خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 866 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 866

خطبات طاہر جلد۵ 866 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء ہیں ، اپنے وقت کے خود مالک ہیں، کس حد تک ہم حیثیت یہ رکھتے ہیں کہ اپنے بچوں کے وقت کا مصرف ان کو بتائیں اور ان کو اپنے وقت کا بہترین مصرف کرنے پر آمادہ کریں ذہنی طور پر۔جتنا آپ ٹیلی وژن کے معاملے میں بے خوف ہوتے چلے جائیں گے اتنازیادہ آپ کے اپنے وقت پر بھی آپ کے اختیارات کم ہوتے چلے جائیں گے، اپنی اولاد کے وقت پر اختیارات کم ہوتے چلے جائیں گے۔پھر اس طرح چنگل میں پھنس جائے گی آپ کی اولاد کہ جب یہ بڑی ہوگی آپ کا کوئی اختیار نہیں رہے گا کہ ان کو واپس کھینچ کے لے آئیں۔اس پہلو سے بھی اپنے گھروں میں باتیں کریں، جائزہ لیں مطالعے کی طرف توجہ دلائیں، خود مطالعہ کر کے ان کو بتائیں۔آج اگر آپ جائزہ لیں سارے انگلستان کے خاندانوں کا تو آپ حیران ہوں گے یہ سن کر میں نے جائزہ نہیں لیا مگر مجھے پتہ ہے کہ یہی ہے کہ بھاری اکثریت خاندانوں کی ایسی ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی کتاب کا سال میں چند دن بھی مطالعہ نہیں ہوتا اور ایسے خاندان شاذ نظر آئیں گے جہاں ماں باپ مطالعہ میں اپنے بچوں کو شامل کر رہے ہیں۔بچوں کا جائزہ لینے والے کہ دینی کتابیں کونسی پڑھ رہے ہیں، کتنی پڑھتے ہیں؟ کتنے خاندان ہیں یہاں ؟ انگلیوں پر گن کے بتائیے مجھے، چند ہیں گنتی کے۔بھاری اکثریت یہی ہے جو وقت کی غلام بن کر ساتھ بہتی چلی جارہی ہے۔حالانکہ مومن وقت کا خدا کی طرف سے ما لک قرار دیا جاتا ہے، اپنے وقت کا ، اسی لئے اس سے جواب طلبی ہوتی ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو عظیم الشان تاریخی کلمات جو خدا تعالیٰ نے فرمائے ان میں ایک یہ تھے اَنتَ الشيخ المسيح الذى لا يُضَاعُ وَقْتُه ( تذکره صفحه: ۳۱۸) کہ اے معز مسیح تو وہ شخص ہے جس کا وقت ضائع نہیں ہو رہا۔معلوم ہوتا ہے اس وقت بھی دنیا کی بھاری اکثریت کا وقت بے شمار ضائع ہورہا تھا اور ایک ایسا شخص خدا کو نظر آیا ہے جو حیرت انگیز تھا، جس کی کوئی مثال نہیں تھی اس دنیا میں یعنی ایک ایسا شخص جس کا وقت ضائع نہیں ہو رہا۔تو آپ اس شخص کے غلام ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انت الشيخ المسيحُ الذى لا يُضَاعُ وَقْتُه الی گواہی سوفی صدی آپ کے اوپر نہ بھی صادق آتی ہو دنیا کی نسبت سے تو نمایاں طور پر آپ کے حق میں صادق آنی چاہئے۔کچھ وقت بے شک تھکاوٹ کے نتیجے میں آرام طلبی کی نظر کر دیں لیکن حتی المقدور کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ وقت