خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 862
خطبات طاہر جلد۵ 862 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء تقریباً ایک جیسا ہی ہوگا اور اس کے لئے کوئی چھان بین نہیں۔اس کے لئے تمیز کرنے کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے گھروں کے اندر۔اس لئے بہت حد تک مغرب کے زہر کو آپ اپنی نسلوں میں رائج کرنے کے سامان خرید لیتے ہیں بازار سے اور ان سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں کرتے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعض ایسے مخفی بداثرات ہیں جو بہت ہی دیر پا اثر کرنے والے نہایت ہی خطرناک اور مہلک ہیں۔دن بدن جوں جوں ٹیلی وژن کا رواج بڑھتا جا رہا ہے مطالعہ کا رواج کم ہوتا جارہا ہے۔آپ اس دور کا تصور کریں جبکہ ٹیلی وژن موجود نہیں تھے اس وقت ہر روز ایک تعلیم یافتہ آدمی کا جتنا وقت مطالعہ میں خرچ ہوا کرتا تھا آج اس کا دسواں حصہ بھی نہیں خرچ ہوتا۔پہلے تھکاوٹ کا علاج مطالعہ تھا، اب مطالعہ تھکاوٹ پیدا کرنے کا موجب سمجھا جاتا ہے اور مطالعہ کا علاج ٹیلی وژن ہے۔دفتر میں کام کر لیا ، بچوں نے پڑھائی کر لی ، مطالعہ ہو گیا تھک گئے ، اب ہمیں ٹیلی وژن دیکھنا چاہئے اور مطالعہ میں اور ٹیلی وژن میں ایک بڑا نمایاں فرق ہے اور فرقوں کے علاوہ وہ فرق یہ ہے کہ مطالعہ اپنے اختیار سے ہوتا ہے اس میں جو چاہیں آپ وہی چیز اُٹھا کے پڑھ سکتے ہیں۔ٹیلی وژن آپ پر ٹھونسی جاتی ہے اور مضامین کا اختیار غیروں کا ہے۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں ہاں ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ہم فرق کر سکتے ہیں لیکن کتنے ہیں جو کرتے ہیں اور فرق کی گنجائش کہاں تک ہے۔زمین آسمان کا فرق ہے ٹیلی وژن میں آپ کا اختیار ہی اتنا محدود ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بعض خاندان ٹیلی وژن دیکھ بھی رہے ہیں بور بھی ہو رہے ہیں رات بھی جاگ رہے ہیں اور نہایت ہی بدمزگی کے ساتھ اس طرح پھر سوتے ہیں جاکے جس طرح ایک بدمزہ کھانا کھانے والا پیٹ بھرتا چلا جاتا ہے لیکن سمجھتا ہے کہ پیٹ نہیں بھر رہا زیادہ بھی کھا جاتا ہے تب بھی پیٹ بھرنے کا احساس نہیں ہوتا۔اسی طرح ایسے ٹیلی وژن دیکھنے والے ایسے خاندان ملیں گے جو بیچارے بیٹھے ہوئے ہیں کہ کہیں سے تو لذت ملے ایک پروگرام بدلتے ہیں، دوسرے بدلتے ہیں، چوتھا بدلتے ہیں جہاں چار ہیں اور امریکہ میں تو ہمیں ہیں، چھپیں چھپیں، چھپیں چھپیں بھی ہیں۔ان کو سمجھ نہیں آتی کیا کریں، لذت لینا چاہتے ہیں مل نہیں رہی اور تھک ہار کے سارا وقت ضائع کر کے پھر آخر وہ لیٹ جائیں گے پھر صبح نمازوں میں دیر اور پھر عبادتوں میں بداثرات پڑتے ہیں اس کے، وہ تو لازماً پڑیں گے ہی۔مطالعہ میں اور اس میں تو زمین آسمان کا فرق ہے۔جوں جوں یہ سہل انگاری پیدا ہورہی ہے طبیعتوں میں ٹیلی