خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 858
خطبات طاہر جلد۵ 858 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء غلطیوں سے بچنا چاہئے اور کس طرح ان اچھی باتوں کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔جماعت کی کل تعداد کا جائزہ لینا، جو تحریکات خلفاء نے کی ہیں جو آج کل جاری ہیں خواہ وہ پہلے خلفاء نے کی ہوں یا موجودہ خلیفہ نے کی ہوں ، جو اس وقت واجب العمل ہیں۔ان تحریکات کا جائزہ لینا ، ان سے کس حد تک استفادہ ہوا ، کس حد تک ہم نے ان کو فراموش کر دیا اور اس حوالے سے آئندہ سال کا ایک معین پروگرام مرتب کرنا۔یہ ہے ایک زندہ باشعور قوم کا رد عمل سال کے اختتام پر اور سال کے آغاز پر اس کو پھر آگے رائج کرنا اس پروگرام کو اور بڑی ہمت اور محنت اور توجہ اور دعا کے ساتھ یہ کوشش کرتے چلے جانا کہ یہ پروگرام صرف فرض کی دنیا میں خیالی دنیا میں نہ رہے، تصورات کی دنیا میں نہ رہے بلکہ عمل کی دنیا میں ڈھل جائے۔یہ ہے ایک باشعور زندہ قوم کا کام۔جہاں تک انفرادی تعلق ہے ہر شخص کا اپنے نفس کا محاسبہ الگ الگ ہوگا۔کئی ایسے دوست ہوں گے جنہوں نے گزشتہ سال اس طرح شروع کیا غفلت کی حالت میں کہ کوئی نیک ارادہ باندھا ہی نہیں۔وہ بھی اس حرکت کرتے ہوئے پلیٹ فارم پر حرکت رہے ہیں جو مادہ پرست قوموں کا پلیٹ فارم ہے۔از خود وہ ایک سال سے دوسرے سال میں داخل ہو جاتے ہیں ، ان کو پتہ ہی نہیں کہ ان کا رخ کس طرف ہے۔ایسے لوگوں تک اگر میری آواز پہنچے تو اُن کو اگلے سال کا آغاز کرنے سے پہلے اپنے اس سال کا اس نقطۂ نگاہ سے جائزہ لینا چاہئے کہ سارا سال کون سی ایسی بدیاں تھیں جن سے وہ غافل رہے ہیں ، کون سی ایسی نیکیاں تھیں جنہیں وہ اختیار کر سکتے تھے لیکن نہیں کیں ، نظام جماعت میں ان کا کیا مقام ہے؟ خدمت کے کون سے مواقع تھے جو انہوں نے ضائع کئے ہیں۔کس حد تک وہ تحریکات پر عمل کرتے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کس حد تک اُن کا وجود جماعت کے لئے مفید ہے اور غیروں کے لئے مفید ہے؟ کس حد تک وہ بنی نوع انسان کو اللہ کی طرف بلانے میں کامیاب رہے ہیں یا اپنی اولاد کو خدا کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔اس لحاظ سے جب آپ جائزہ لیں گے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مختلف افراد کا انفرادی طور پر الگ الگ جائزہ ہوگا اور الگ الگ جواب ہوں گے اور اس کے متعلق ایک ہی کوئی جواب ایسا پیش کیا ہی نہیں جا سکتا جو سب کے لئے یکساں ہو۔فرد فرد سے اس کے بدلتے ہوئے حالات کے نتیجے میں مختلف قسم کے سوال ہونے چاہئیں اور اگر وہ سب سوالات خود اُٹھائے اپنے اوپر تو اس کے جواب بھی مختلف ہوں گے لیکن