خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 853 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 853

خطبات طاہر جلد ۵ 853 خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۶ء ہر قسم کے دائرہ زندگی سے تعلق رکھنے والا انسان یہ سوچتا ہے کہ میری عمر کا ایک معین عرصہ ختم ہو رہا ہے اور اس قسم کا ایک معین عرصہ سامنے کھڑا ہے اگر خدا توفیق دے بعض لوگ تو خدا کا نام بھی نہیں لیتے مگر ہم بطور مومن کے اس کا ذکر کئے بغیر بات آگے بڑھا نہیں سکتے۔تو اگر خدا توفیق دے اور ہم اس حصے میں قدم رکھیں تو کیا ہوگا۔ہمیں یہ سال کس طرح ختم کرنا چاہئے اور آئندہ زندگی کا آغا ز کیسے کرنا چاہئے۔ایک طالب علم جب اس پر غور کرتا ہے تو اس کا سال دسمبر میں ختم نہیں ہوتا اور جنوری میں شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کا سال اپنے ایک اور وقت میں شروع ہوتا ہے، ہر طالب علم کا اپنا اپنا سال ہے تو اس وقت کی سوچ خالصہ علمی ہو جاتی ہے۔ایک مالی نظام کا سال بھی مختلف وقت میں شروع ہو کر مختلف وقت میں ختم ہو جاتا ہے تو اس کی سوچ بھی ایک خاص دائرہ سے تعلق رکھتی ہے کہ ہم نے اس گزشتہ سال میں کیا کھویا کیوں کھویا کیا پا سکتے تھے جو نہیں پایا ان امور پر بحث اور پھر ہمارے مالی حساب درست بھی ہیں کہ نہیں ، اعداد وشمار ٹھیک ہیں یا غلط۔ایک خاص ہنگامہ آپ دیکھتے ہیں سال کے آخر پر لیکن یہ سال جو ہے جو جنوری سے شروع ہو کر دسمبر میں ختم ہو جاتا ہے یہ سب انسانوں کے لئے مشترک ہے اور اس لحاظ سے ایک عمومی مشترک انسانی رد عمل اس وقت پیدا ہوتا ہے۔جہاں تک مادہ پرست قومیں ہیں ان کے رد عمل، ان کی توجہ کا مرکز اس موقع پر جو بنتا ہے ان کا ذکر اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا مقصد زندگی کا مقصد سوائے عیش وعشرت کے اچھی دلچسپ لذتوں سے بھری ہوئی زندگی گزارنے کے اور کچھ نہیں ہے کیونکہ خدا نہیں ہے۔اگر خدا ہے تو فرضی ہے چونکہ ہم جوابدہ نہیں ہیں کسی کے سامنے۔خواہ تصور کی دنیا میں مانیں بھی تب بھی عملا اگر گہرائی سے ان کے اعمال اور ان کے اخلاق اور ان کے باہمی ایک دوسرے سے سلوک اور غیر قوموں سے سلوک کا مطالعہ کریں تو یہی جواب ملے گا کہ جس خدا پر یہ ایمان رکھتے ہیں وہ سنجیدگی سے اس کو جواب لینے والا خدا نہیں سمجھتے۔چنانچہ ان کی تمام تر توجہات زندگی کی لذتوں کے حصول کی طرف ہو جاتی ہیں۔ان کی ساری ایجادات کا رُخ اسی طرف ہے۔جہاں تک تخریبی ایجادات ہیں ان کی وجہ اپنے عیش کی زندگی کی حفاظت ہے چنانچہ جس کو آپ دفاعی دنیا سے تعلق رکھنے والی ایجادات کہہ سکتے ہیں ان سب کا تعلق بھی عملاً اسی زندگی کی حفاظت کے لئے ہے جو ان کو زندگی میں غیر قوموں پر برتری حاصل ہو چکی ہے۔عیش وعشرت کے زیادہ سامان اکٹھے ہو چکے ہیں۔چونکہ یہ نہیں چاہتے کہ یہ تقسیم ہو جا ئیں سب