خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 854
خطبات طاہر جلد۵ 854 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء دنیا میں اور ساری دنیا ان سے برابر استفادہ کر سکے اسلئے دفاعی نظام ہے۔کسی کے پاس کھانا زیادہ ہوگا اور دوسرے کے پاس کم ہوگا تو دفاعی نظام ضرور بنانا پڑے گا۔اگر دونوں کے پاس برابر کھانا ہوتو احمق ہوگا کوئی جو دفاعی نظام قائم کرے گا۔آخری خلاصہ اس ساری زندگی کی جدو جہد کا یہ ہے کہ بعض قو میں اپنے عیش وعشرت کے نظام میں آگے بڑھی ہوئی ہیں بعض پیچھے ہیں بعض بالکل سامان خور و نوش سے عاری ہیں بے چاری۔ان کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں اس لئے کئی قسم کے خطرات ہیں ایک دوسرے سے چھینے کے اگر موقع ملے تو اس لئے ایک دفاعی نظام ہے۔دوسرا نظام ہے ایجادات کا جو خالصہ لذتوں کو آگے بڑھانے والا نظام ہے اور کوئی بھی اس کا مقصد نہیں۔اخروی دنیا سے تعلق رکھنے والا کوئی عملی نظام ایسا آپ کو اس دنیا میں نظر نہیں آئے گا جس میں ایک انسان کی سوچ کا ماحاصل اس لئے خرچ ہو رہا ہو کہ ہم اپنی آخری زندگی کو بعد میں آنے والی زندگی کو سدھار میں اور اس کو سنوارنے کا انتظام کریں۔ٹیلی وژن دیکھ لیں آپ یہاں کے ، یہاں کے ریڈیو دیکھ لیں، یہاں کھانے پینے کے سامان ، یہاں موٹر گاڑیاں، یہاں کی موٹر اور ایجادات کے جتنے بھی نقشے ہیں ویڈیو وغیرہ یہ سارے ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے ہیں اور یہاں تک حالت پہنچ گئی ہے کہ اگر ان کی ساری انکم ساری آمد جو ہے سارے سال کی اس کا آپ تجزیہ کریں تو ان کے زندہ رہنے کے لئے جو ضروری چیزیں ہیں ان پر کل آمد کا 1/10 بھی خرچ نہیں ہوتا بلکہ بعض ملکوں میں 1/100 بھی خرچ نہیں ہوتا۔شریفانہ زندگی بسر کرنے کے لئے جتنی ضرورت ہے دولت کی اس سے بہت تھوڑا حصہ ہے جو یہ کماتے ہیں، اس کا بہت تھوڑا حصہ ہے جو یہ خرچ کرتے ہیں یا ان کے لئے کرنا ضروری ہے۔بھاری روپے کی اکثریت آمد کی بھاری اکثریت انہی چیزوں میں خرچ ہو رہی ہے اور جو غریب ہیں، جو نسبتاً غریب طبقے ہیں ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ مکانوں سے اس لئے محروم ہیں جائیدادوں سے اس لئے محروم ہیں ، بہت سی بنیادی ضرورتوں سے اسلئے محروم ہیں کہ عیش و عشرت کی طرف توجہ بہت زیادہ مبذول ہو چکی ہے اور بظاہر آپ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس تو رہنے کے مکان نہیں ہیں، گورنمنٹ مکان دے رہی ہے یا کرائے پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن اگر آپ عملاً ان کی آمدنوں کا ، خاندانوں سے نسلاً بعد نسل جائزہ لے کر دیکھیں تو پتہ یہ لگے گا کہ آمد کا بیشتر حصہ جو بچتا ہے