خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 852
خطبات طاہر جلد۵ 852 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء قانون مقرر ہے اور ہر قانون جو اس سے تعلق رکھنے والا قانون ہے وہ ہر جگہ ایک طرح اثر نہیں دکھا رہا۔مختلف قوانین کے مجموعے ہیں جو ہر زندگی کی ایک قسم کے لئے الگ الگ مقرر ہیں اور ان کا اجتماعی اثر پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایک زندگی کی شکل کی عمر اور بن جاتی ہے دوسری کی اور بن جاتی ہے تیسری کی اور بن جاتی ہے۔اس لئے وہم ہے یہ کہ محض زمانہ مارتا ہے۔بہر حال اس فلسفہ حیات کے رد میں چونکہ قرآن کریم نے واضح طور پر فرمایا ہے یہ لوگ جو مادہ پرست قومیں ہیں یہ ان مضامین میں اپنی علمی ترقی کے باوجود غور نہیں کر رہیں۔اس لئے نہیں کرتیں کہ بنیادی طور پر یہ خدا کی ہستی کی قائل نہیں ہیں۔فرضی طور پر قائل بھی ہوں مثلاً عیسائی دنیا فرضی طور پر قائل ہے، یہودی دنیا فرضی طور پر قائل ہے لیکن ان کی سائنسیں خدا سے خالی ہیں۔آپ ساری سائنسز کا مطالعہ کر لیں۔انفرادی طور پر اگر ایک سائنس دان خدا کی ہستی کو موجبات میں داخل کر دے، محرکات میں داخل کر دے تو فورا اس کو پاگل کہنا شروع کر دیں گے، اس کی ساری ریسرچ بے معنی ہو جائے گی۔اگر وہ یہ تیسرا فیکٹر یعنی خدا کا فیکٹر ڈال دے۔یہی وجہ ہے کہ آج کل ایولوشن Evolution کے اوپر جو نئے نظریات آکر ایک مقام پر پھنس گئے ہیں اُس میں خدا کا فیکٹر ڈالے بغیر بات آگے بنتی ہی نہیں ہے اور اس کے لئے یہ تو میں تیار نہیں ہیں۔اس لئے لا نیل کے طور پر ان مسائل کو رہنے دیتی ہیں لیکن یہ سوچ کر آگے قدم نہیں بڑھا تیں کہ اگر خدا ہو تو یہ ہونا چاہئے۔تو اسی لئے قرآن کریم نے ایک نہایت ہی عمدہ بنیادی مسئلے کی طرف ہماری توجہ دلا دی کہ ہر تحقیق کے میدان میں جہاں ایک مقام پر پہنچ پر خدا کی ہستی کو تسلیم کرنالازم ہو جاتا ہے۔وہاں سے آگے یہ قو میں قدم نہیں اُٹھائیں گی اس سے آگے مومنوں کا کام ہے اور مومن سائنسدانوں کے لئے یہ سارے میدان کھلے پڑے ہیں۔ان میں ایک یہ میدان ہے کہ موت کا نظام ہے کیا ؟ کون سے محرکات ، کون سےموجبات ہیں جو ہر زندگی کی شکل کے لئے خاص موت کا پیغام رکھتے ہیں اور ان کا آپس میں پھر کیا تعلق ہے۔اگر کسی خاص قسم کی زندگی کے لئے خاص عرصہ حیات یا موت کا آنا مقدر نہ ہوتا تو با قیوں پر اس کا کیا اثر پڑتا یہ پہلو ہے جو بہت بڑا عظیم الشان علم کا میدان ہے، اللہ تعالیٰ توفیق دے تو احمدی سائنس دانوں کو اس پر کام کرنا چاہئے۔اس مضمون کا آج کے خطبہ سے جو تعلق ہے وہ یہ ہے کہ سال کے آخر پر انسان یہ سوچتا ہے