خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 851
خطبات طاہر جلد۵ 851 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء ایک زندہ چیز ایک عرصے کے بعد لازماً موت کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتی ہے اور ہر زندہ چیز کے لئے ایک عرصہ حیات مقرر ہے اور وہ اسکی جینز میں Coded Message کی شکل میں موجود ہے۔اس پیغام سے وہ چیز تجاوز کر ہی نہیں سکتی۔پابند ہے، غلام ہے اس پیغام کی۔یہ جو پہلو ہیں کیوں ایسا ہوا؟ کیوں زندگی کی جو شکل ہے اس کی عمر ایک خاص طبعی عمر ہے جو دوسروں سے اختلاف رکھتی ہے اور اگر وہ طبعی عمر مقرر نہ ہو تو کیا ہو جائے۔اس پہلو پر تھوڑی سی روشنی سائنس دانوں نے ضرور ڈالی ہے۔مثلاً وہ یہ کہتے ہیں کہ Insect یعنی وہ جانور جو کیڑے مکوڑے کہلاتے ہیں ہماری اردو زبان میں اُن جانوروں میں، بڑھنے اور پھیلنے کی اتنی قوتیں موجود ہیں کہ اگر اُن کو بغیر کسی روک ٹوک کے آگے بڑھنے دیا جائے تو ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ لازماً چند سالوں کے اندراندر زندگی کی ہر قسم پر قبضہ کر لیں۔کیڑی کیوں ایک وقت تک بڑھنے کے بعد رک جاتی ہے وہاں اور پھر آگے بڑھنے کی بجائے وہ موت کی طرف حرکت شروع کر دیتی ہے، پروانے ہیں کئی قسم کے، اسی طرح بے شمار Insects میں مختلف قسموں کے ان سب میں بڑھنے کی ایسی طاقتیں موجود ہیں اور ان کا اندرونی نظام اتنا مضبوط ہے کہ وزن کے لحاظ سے سب سے زیادہ طاقتور چیز کیٹری اور اس قسم کے دوسرے جانور ہیں۔اپنے سے اتنا گنا زیادہ وزن لے کر یہ جانورسیدھا عمودی چھت کی طرف دیوار کے اوپر چل سکتے ہیں کہ انسان اپنے سے دسواں حصہ، ہزاروں حصہ وزن لے کر بھی نہیں چل سکتا بلکہ اپنا وزن لے کر بھی نہیں چل سکتا۔کوئی دنیا کا جانور اتنا طاقتور نہیں ہے اپنے وزن کی نسبت سے جتنے یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے ہیں ، حشرات الارض بھی کہتے ہیں ان کو اردو میں اور ان کے لئے جوموت کا نظام مقدر ہے وہ ہمارے حیات کے نظام سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔اگر ان کی موت کا نظام مقرر نہ ہوتا تو باقی زندگی کی ہر قسم کے لئے حیات کا بھی کوئی نظام مقر نہیں ہوسکتا تھا۔اور یہ وجہ کیا ہے کہ جب ان کے پاس غذا پوری موجود ہو موسم اچھے ہوں جن میں ان کی پرورش ہوتی ہے تو خود بخود بڑھتے بڑھتے ایک موقع پر پہنچ کر یہ موت کی طرف حرکت شروع کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ پاگل ہیں جو مذہبی لوگوں کو کہتے ہیں کہ تم بڑے بے وقوف ہو یہ تو زمانہ مارتا ہے۔اتنی ترقی کے باوجود ، علمی ترقی کے باوجود ابھی تک ان کو یہ نہیں پتا لگا کہ زمانہ نہیں مارتا ایک