خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 850
خطبات طاہر جلد۵ 850 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء کرتی ہے اور وہی مارتی بھی ہے یونہی ڈھکو سلے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَالَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ خود ان کو علم نہیں ہے کہ زندگی اور موت کا فلسفہ ہے کیا، کیوں موت سے زندگی بنتی ہے زندگی سے موت إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ محض ظنی باتیں کر رہے ہیں۔آج میں نے اس آیت کا مضمون اس لئے موضوع سخن بنایا ہے یعنی اپنے خطاب کے لئے چنا ہے کہ یہ سال ختم ہو رہا ہے اور ایک نئے سال کا آغاز ہونے لگا ہے۔اس خاص وقت کا اس مضمون سے بھی ایک تعلق ہے لیکن بیشتر اس سے کہ میں وہ تعلق بیان کروں یہاں ایک ضمنی بات بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں قرآن کریم نے جو یہ فرمایا وَمَالَهُمْ بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ اس میں احمدی مفکرین اور احمدی سائنس دانوں کے لئے ایک تحقیق کے میدان کی طرف اُنگلی اُٹھائی گئی ہے اور ایک بہت بڑا کھلا تحقیق کا میدان پڑا ہوا ہے جس کی طرف اب تک مغربی اقوام کی نظر نہیں گئی۔وہ فلسفہ حیات اور فلسفہ موت ہے اس پہلو سے کہ کیا زمانہ خود بخود مار دیتا ہے یا مرنے کا جو اصول ہے وہ کچھ اور ہے، کوئی اور وجوہات ہیں جو موت کے پیچھے کارفرما ہیں اور ان وجو ہات میں ایک منظم منہ را یک مقصد ہے اس کا۔یہ وہ پہلو ہے جس کی طرف ابھی تک دنیا کے کیمسٹ اور فز زسٹ اور بیالوجسٹ نے توجہ نہیں کی کیونکہ اس فلسفہ حیات کی پیروی خدا کے تصور کا اس سے پہلے تقاضا کرتی ہے۔اگر خدا ہے ہی نہیں اور کوئی بیرونی چیز ایسی نہیں ہے جس نے دنیا کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہو تو ایسے عقیدہ رکھنے والوں کے لئے یہ سائنس پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔اس کا جنم لینافی ذاتہ بے مقصد بن جاتا ہے کیونکہ اگر کوئی خدا ہے ہی نہیں جس نے اس کائنات کو تنظیم دی ہے، ترتیب دی ہے اس کو درجہ بہ درجہ آگے بڑھایا ہے۔طباقاً اس کا قدم ترقی کی طرف بڑھنے کے التزام کئے ہیں اور ایک مقصد کی پیروی کی طرف اسے آگے بڑھایا ہے۔اگر یہ فلسفہ حیات درست نہیں ہے، اگر یہ نظریہ بنیادی طور پر غلط ہے تو زندگی کے بعد موت کی وجو ہات تلاش کرنا بے معنی ہو جاتا ہے سوائے اس کے کہ وہ فوری وجو ہات تلاش کی جائیں جنہیں دور کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔چنانچہ ان کا علم طب خواہ اس کا کوئی نام بھی رکھ لیں اس کا صرف اس حصے سے تعلق ہے کہ فوری طور پر موت کیوں واقع ہوتی ہے لیکن موت کے لئے جو نظام مقرر ہے، ہر چیز کی ایک طبعی عمر مقرر ہے ، وہ کیا وجوہات ہیں جن کے نتیجے میں نشو و نما کے پورے سامان موجود ہونے کے باوجود