خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 839
خطبات طاہر جلد۵ 839 خطبہ جمعہ ۱۹ رد سمبر ۱۹۸۶ء کو مسکراتے دیکھ رہا ہوتا ہے تو بعض دفعہ ماں باپ کی مسکراہٹ کی ایک جھلک بلا ارادہ اس کی مسکراہٹ میں اس طرح داخل ہو جاتی ہے کہ وہ بڑھاپے تک قائم رہتی ہے۔ماں باپ کی باتیں کرنے کا طریق ، ان کے غصے کا اظہار کیسے ہوتا ہے، وہ خوش کیسے ہوتے ہیں۔یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو بچہ قبول کر رہا ہے لیکن ارادہ کے ساتھ نہیں کر رہا اور چونکہ ارادے کے ساتھ نہیں کر رہا اس لئے ایک طبعی فطری عمل کے طور پر چیزیں اس کے اندر داخل ہورہی ہیں۔جو چیز میں اس دور میں طبعی فطری عمل کے طور پر اس کے اندر داخل ہو جائیں بعد میں ان کو بالا رادہ طور پر ڈھال لینا اور ان کو زیادہ خوبصورت بنادینا یہ ممکن ہے لیکن جو اس عمر میں اس کے اندر داخل ہی نہ ہوئی ہیں وہ خلا ہیں جو پھر بعد میں بھرے نہیں جاسکتے۔اس لئے جب ہم سات سال کی عمر سے پہلے بچے کو تنظیموں کے سپرد نہیں کرتے ہیں تو دوسری حکمتوں کے علاوہ ایک حکمت یہ ہے کہ آنحضرت علی نے ارادے کو ڈھالنے کے لئے تو اجازت دی ہے اس طرح کیونکہ شریعت میں اپنا ارادہ شامل ہونا ضروری ہے۔شریعت میں صرف دوسرے کا ارادہ کافی نہیں ہے۔اس لئے جہاں شرعی فرائض یا منا ہی آجاتے ہیں وہاں سات سال سے پہلے بچے کو احکام جاری کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایسے احکام جاری کرنے کی اجازت نہیں ہے جن احکام میں اس کے ارادے کا دخل ہو پس یہ وہ فرق ہے جس کوملحوظ رکھنا چاہئے۔دوسری اہمیت اس بات کو بہت ہے کہ بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو ماں باپ کے سوا کسی دوسرے کے زیر اثر لانا یہ خود ایک غیر نفسیاتی حرکت ہے۔اگر آپ بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو ان کے ماں باپ سے علیحدہ کر دیں یا ماں باپ کے متعلق یہ سمجھیں کہ ان کو ان بچوں کی تربیت کا حق نہیں بلکہ اس سے زیادہ کسی تنظیم کو حق ہے تو یہ عملاً اشتراکیت کی طرف ایک نہایت ہی سنگین قدم ہے اور واقعہ اشترا کی نظریہ کے ساتھ اس کا گہرا جوڑ ہے۔یعنی ایسا نظریہ جو سطحی اشتراکیوں کا نظریہ نہیں بلکہ جوان کے فلسفے کی جان ہے اس نظریے کی روح سے اگر آپ دیکھیں تو ان کے نزدیک سوسائٹی بالغ ہی تب ہوگی جب پہلے دن کا بچہ بھی سٹیسٹ کے زیر اثر آجائے۔وہ فلسفہ یہ کہتا ہے کہ جب ماں اور باپ بچوں پر اثر ڈالنا شروع کریں ابتدائی عمر میں اس کے بعد سٹیٹ پھر اپنی مرضی میں ان کو پوری طرح ڈھال ہی نہیں سکتی ہے۔وہ بھی یہ جانتے ہیں، اس