خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 838 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 838

خطبات طاہر جلد۵ 838 خطبه جمعه ۱۹ رد سمبر ۱۹۸۶ء اس لئے جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں ہے لیکن جب ہم آنحضرت ﷺ کے ارشادات کو دیکھتے ہیں تو جہاں تک فرائض کا تعلق ہے ان کا آغاز سات سال کی عمر سے نرمی کے ساتھ ہوتا ہے اور تربیت کا جو ظاہری رسمی دور ہے وہ سات سال کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔دس سال کی عمر کے بعد بچوں کو مارنے کی اجازت بھی مل جاتی ہے اور بارہ سال کی عمر کے بعد پھر ان کو اتنا پختہ سمجھا جاتا ہے کہ اب وہ بالکل آزاد ہیں نصیحت کرو لیکن ان پر ہاتھ نہیں اٹھانا۔جو کچھ تم نے کرنا تھا تم کر چکے ہو اس خیال سے جماعتی نظام میں اطفال کی عمر سات سال کے بعد مقرر کی گئی کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے اس عمر کی یہ اہمیت تو بہر حال مالتی تھی کہ اس کے بعد تربیت رسمی طور پر بھی باقاعدہ شروع کر دی جائے لیکن دوسرے ارشادات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تربیت کا دور پہلے بھی جاری تھا۔اس کے کچھ اور پہلو ہیں اور اس دور کے بعد کچھ اور پہلو ہیں۔اس نقطۂ نگاہ سے جب ہم مزید غور کرتے ہیں تو بعض اور ایسے ارشادات نظر آتے ہیں جس کا اس مضمون سے تعلق ہے مثلاً بچے کی خیار کی عمر کیا ہے؟ یہ ایک ایسی بحث ہے جو فقہاء میں چل رہی ہے کہ اگر بچے سے یہ پوچھنا ہو کہ تم نے ماں کے پاس رہنا ہے یا باپ کے پاس جانا ہے علیحدگی کی صورت میں تو وہ کون سی عمر ہے۔بہت سے فقہاء سات سال کی عمر بتاتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جونو سال یا دس سال کی عمر بتاتے ہیں لیکن سات سال سے کم نہیں کوئی بتاتا ہے۔سات سال کا یقینا کوئی تعلق ضرور ہے اور سات سے دس سال کی عمر اس لحاظ بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ایک موڑ کا دور ہے۔سات سال سے پہلے کچا دور ہے اثر پذیر ہونے کا۔سات سال کی عمر تک اپنے فیصلے کا کچھ نہ کچھ اختیار بچے کو ہو جاتا ہے، کچھ شعور پیدا ہو جاتا ہے اور اسی لئے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ سات سال کی عمر سے اس کو نصیحت کر کے نمازیں پڑھاؤ (ابو داؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۴۱۷) عبادات کے مزے چکھانے شروع کر دو۔معلوم ہوتا ہے اس میں یہ فیصلے کی قوت پیدا ہو چکی ہے کہ ہاں میں نے کچھ کرنا ہے۔اس لئے اس اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو بتانا شروع کر دو لیکن Passive یعنی ایسے رنگ میں اثر کو قبول کرنا کہ جس میں ارادے کا نمایاں دخل نہ ہو یہ عمر جتنی چھوٹی ہو اتنا ہی اس عمل میں زیادہ شدت پائی جاتی ہے۔اس لئے جتنا چھوٹا بچہ ہو اتنا زیادہ اثر پذیر ہوتا ہے قوت فیصلہ کے ذریعہ نہیں بلکہ طبعی طور پر Instinctive طور پر۔وہ جب ماں باپ