خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 837
خطبات طاہر جلد۵ 837 خطبه جمعه ۱۹ رد سمبر ۱۹۸۶ء جاتا ہے جس طرح بعض دفعہ شیشہ ڈھالتے وقت اندر بلبلے رہ جاتے ہیں اس طرح انسانی دماغ میں بھی بعض علمی پہلوؤں سے بلبلے رہ جاتے ہیں اور یہ بات ان کی درست ہے۔میں نے بھی جہاں تک مطالعہ کیا ہے بعض سائنسدان تو اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ چھوٹی عمر میں ہی اگر زبان سکھائی نہ جائے اور لمبا خلا مثلاً سات آٹھ سال تک مسلسل خلا چلا جائے تو اس کے بعد بچہ کوئی زبان سیکھ ہی نہیں سکتا۔یعنی پھر جتنا چاہیں آپ زور لگا ئیں جتنی چاہیں کوشش کر لیں وہ مستقل خلاء پیدا ہو جائے گا۔اسی طرح بعض علوم یا بعض ذوق ایسے ہیں جو بچپن میں پیدا نہ ہوں تو پھر آگے پیدا نہیں ہوتے۔تو ان کو یہ خیال آیا کہ کیوں ان کو کسی تنظیم کے سپرد نہیں کیا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس عمر میں بچے ماں اور باپ کے سپرد ہیں اور اس پہلو سے قرآن کریم بھی روشنی ڈالتا ہے اور احادیث میں بھی کثرت سے اس کا ذکر ملتا ہے۔ہاں ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ، بار بار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔چند لمحات کے بعد بچے کے کان میں اذان دینا اور دوسرے کان میں تکبیر کہنا یہ ایک بہت ہی عظیم الشان اور گہرا حکم ہے اور یہ بتانے کے لئے ہے کہ بچے کی عمر کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جو تربیت سے خالی رہے اور کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق تم جوابدہ نہیں ہو گے۔عملاً جب ہم اذان دیتے ہیں تو بچہ تو اس اذان کے لئے جوابدہ نہیں ہے نہ اس تکبیر کے لئے جوابدہ ہے نہ ان باتوں کو سمجھ رہا ہے۔ماں باپ کو متوجہ کیا جارہا ہے جوابدہ تم نے پہلے دن سے دینی رنگ میں تربیت کرنی ہے۔اگر نہیں کرو گے تو تم جوابدہ ہو گے اس میں اور بھی بہت سی حکمتیں ہیں لیکن ایک بڑی اہم حکمت یہ ہے۔تو قرآن کریم میں جب فرماتا ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيْكُمُ نَارًا تو اس میں جہاں تک اولاد کا تعلق ہے یہ بچانے کا عمل پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے اور اگر سات سال کی عمر خصوصیت کے ساتھ اہمیت رکھتی ہے جیسا کہ سائنسدان کہتے ہیں اور بعض فرق بھی کرتے ہیں بعض سات سال کو کچھ بڑھا دیتے ہیں بعض کچھ کم کر دیتے ہیں لیکن عموماً اس پر یہ اتفاق ہے کہ سات سال کے لگ بھگ عمر بہت ہی اہمیت رکھتی ہے وہاں پہنچ کر بچہ نفسیاتی لحاظ سے پختگی میں داخل ہو جاتا ہے یعنی پختگی کی جانب قدم اٹھانے لگتا ہے تیزی سے اور وہ کچی عمر نفسیاتی جواثر کو قبول کرنے والی عمر ہوتی ہے وہ سب سے زیادہ حساس سات سال سے پہلے پہلے ہی ہے۔