خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 836 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 836

خطبات طاہر جلد ۵ 836 خطبہ جمعہ ۱۹ رد سمبر ۱۹۸۶ء اس آگ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے فرشتے نگران مقرر ہیں جو بہت ہی مضبوط ہیں اور بہت ہی سخت ہیں لا يَعْصُونَ اللهَ مَا اَمَرَهُم وہ اللہ کے فرمان سے سرمو بھی انحراف نہیں کرتے۔وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ اور جو کچھ ان سے کہا جاتا ہے وہ اسی طرح کرتے ہیں۔اس خطبہ کے لئے جس کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوں میرا ارادہ تھا کہ تربیتی مضمون اختیار کروں کیونکہ بار بار بعض تربیتی پہلو ایسے ہیں جن کا جماعت کو بتانا اور اس کی یاددہانی کروانا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔وقتاً فوقتاً مختلف قسم کے مضامین میں چنتا ہوں اور پھر کوشش کرتا ہوں کہ ان کے کچھ پہلوؤں پر اچھی طرح روشنی ڈالوں۔کچھ پہلو بچ جاتے ہیں پھر ان کو میں آئندہ کے لئے اٹھا رکھتا ہوں اور وقتی ضروریات کے خطبے بھی بیچ میں آتے رہتے ہیں۔بہر حال اس مرتبہ میں نے یہی ارادہ کیا تھا کہ تربیت سے متعلق جو عمومی رنگ ہے اس کے او پر میں کچھ بیان کروں گا لیکن اس عرصہ میں پشاور سے ہمارے ایک احمدی مخلص دوست جو خود احمدی ہوئے ہیں۔جوانی سے ذرا آگے بڑھ کر درمیان کی جو عمر ہے اس میں اور بڑا عملی ذوق رکھتے ہیں نفسیات ان کا مضمون رہا ہے، جماعتی دینی معاملات میں سوچ بچار پر ان کے نفسیات کے مضمون کا بھی اثر پڑتا رہتا ہے ان کی طرف سے ایک ایسے ہی مضمون سے متعلق خطبہ دینے کے لئے یا جماعت کو عمومی نصیحت کرنے کے لئے مجھے متوجہ کیا گیا ہے اور نصیحت کا ایک خاص پہلو ہے جو ان کے پیش نظر تھا۔ان کو چونکہ سوچ بچار کی عادت ہے مختلف تربیتی مسائل پر غور کرتے رہتے ہیں اس لئے وہ لکھتے ہیں کہ میں نے جماعتی نظام پر بہت غور کیا اور کرتارہتا ہوں اور جتنا غور کیا میں حیرت میں ڈوبتا چلا گیا کہ حضرت مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ نے کیسا عظیم الشان اور کامل تربیتی نظام قائم کرنے کی توفیق بخشی ہے لیکن ایک پہلو ایسا ہے جس کے متعلق میرا ذہن پوری طرح مطمئن نہیں ہو سکا اور بار ہا خیالات میرے دل کو کریدتے رہے کہ یہ پہلو کیوں تشنہ ہے اور وہ ہے پیدائش سے لے کر سات سال کی عمر تک بچوں کو کسی نظام کے سپردنہ کرنا۔وہ لکھتے ہیں کہ انسانی عمر کے جو مختلف ادوار میں نفسیاتی لحاظ سے سب سے اہم دور یہ ابتدائی دور ہے اس دور میں بچہ جو سیکھ جائے وہ سیکھ جاتا ہے اور پھر مزید سیکھنے کی اہلیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور اگر اس دور میں کسی پہلو سے اس کی تعلیم میں تشنگی رہ جائے تو بسا اوقات بڑی عمر میں جا کر وہ تشنگی پوری ہو ہی نہیں سکتی اور وہ پہلو ہمیشہ کے لئے ایک خلا بن