خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 828 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 828

خطبات طاہر جلد ۵ 828 خطبه جمعه ۱۲ر دسمبر ۱۹۸۶ء نتیجہ میں قتل عام ہو۔اگر خدانخواستہ ایسا ہو تو اس کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ مٹ جائے گی؟ اس معاملہ میں بھی کلیہ نامراد ہوں گے۔پہلی بات میں بھی اگر کہا ہے اس کی طرف دوبارہ واپس آؤں گا۔لیکن بفرض محال یہ کلیہ سو فیصدی بھی اس میں کامیاب ہوجائیں تو ہر گز کسی قیمت پر بھی یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے کہ جماعت احمدیہ اس کے نتیجے میں مٹ جائے گی۔ہر احمدی شہید کا جو ایک ایک قطرہ زمین پر گرے گا اس کے نتیجہ میں قو میں اسلام احمدیت میں داخل ہوں گی اور اس کثرت سے خدا تعالیٰ اس کا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔جیسا کہ قرآن کریم کا دعوی ہے کہ اس کا یہ ملاں تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔پاکستان کو اگر عام رفتار کے مطابق ہزار سال کے بعد احمدی بننا ہو خدانخواستہ اگر یہی رفتار رہے اور یہ اپنے اس بد ارادے میں کامیاب ہو جائیں تو ہزار سال کے بجائے ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے احمدی ہونے میں ایک سال بھی نہ لگے کیونکہ اگر یہ خوفناک ارادہ اگر واقعۂ عمل کا جامہ پہن لے تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ خدا کی تقدیر اس کے نتیجہ میں کتنی حیرت انگیز ردعمل دکھاتی ہے۔ساری انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ایسے واقعات رائیگاں نہیں جایا کرتے۔چند معصوموں کے قتلوں کا خون بھی قوموں کو ہضم نہیں ہوا کرتا۔کجا یہ کہ خالصہ خدا کے نام پر قائم ہونے والی جماعت کے ہر بڑے چھوٹے مرد اور عورت اور بچے کو صرف اس لئے شہید کر دیا جائے کہ وہ دین میں استقامت دکھا رہے ہیں۔یہ تو ایسا واقعہ ہی نہیں ہے جو رونما ہو اور دنیا میں سب سے بڑا انقلاب بر پانہ کر دے۔شہادتوں کے نتیجہ میں دو قسم کے رد عمل خدا تعالیٰ کیظا ہر ہوا کرتے ہیں ایک ظالموں کو سزا دینے اور پکڑنے کا رد عمل اور ایک جس مقصد کے لئے بد ارادہ رکھنے والے از راہ ظلم معصوموں کو شہید کرتے ہیں۔اس مقصد کو کلیۂ دنیا کو نا کام کر کے دکھا دینا ہے۔یہ دوسرار عمل ہوا کرتا ہے الہی تقدیر کا۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ دونوں وعدے موجود ہیں۔سزا کا ایک طرف اور انعام کا دوسری طرف۔ایک وعدہ یہ ہے کہ تم یہ ظلم کرو گے جس حد تک بھی کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑے گا اور تمہیں نہیں چھوڑے گا اور سزا پر سزا دیتا چلا جائے گا۔تکرار کرے گا اپنی سزا میں اور دوسری طرف یہ انعام کا وعدہ کہ تم میں سے ایک شہید ہو گا تو خدا قو میں لا کے داخل کرے گا اور وہ پہلے سے زیادہ قوی ہوں گی قو میں ایمان میں۔حالانکہ اگر مرتد کی سزا قتل کے نتیجہ میں قتل عام کیا گیا ہو تو جو احمدی ہوگا اس کو نسبتاً