خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 812 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 812

خطبات طاہر جلد ۵ 812 خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء بہائے اپنے گھروں سے بے گھر کئے گئے اور ہر قسم کی تکلیفوں کا منہ دیکھنا پڑا، گلیوں میں گھسیٹے گئے ، پتھراؤ کیا گیا ، گندی گالیاں دی گئیں، سروں میں خاک ڈالی گئی، عبادتوں سے روکا گیا ہر قسم کے حقوق سے محروم کیا گیا اور مسلسل آپ قربانیاں دیتے رہے ان حقوق کی خاطر آج آپ کے نام پر ایک عجیب اسلام کی چھاپ لے کر کچھ لوگ اٹھے ہیں جو یہ اعلان کر رہے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مقابل پر جو جو ذرائع اختیار کئے گئے تھے انسانی ضمیر کو دبانے کے لئے وہ ہم اسلام کے نام پر کسی ایک جماعت کے خلاف استعمال کریں گے اور ان سے وہ سارے حق چھین لیں گے جو سید ولد آدم علے کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے تھے اور ان کے لئے جہاد کرنے کی تعلیم دی تھی۔اب بتائیے کہ دونوں میں سے کون مسلمان ہے اور کون کا فر ہے، کون مومن ہے اور کون کا فر ہے، کون مسلم اور کون غیر مسلم ہے۔ایک جماعت کی تصویر بن رہی ہے حضرت اقدس محمد مصطفی علی اور آپ کے غلاموں کی سی موبمو، نقطه به نقطه نقش به نقش انہیں قدموں پر چل رہی ہے جماعت جن قدموں پر آنحضرت ﷺ نے اپنے غلاموں کو چلا یا تھا۔وہ قدم تھے جن کے متعلق ثبات قدم کا مضمون پورا آتا ہے۔وہ ثبات قدم کے تمام پہلوؤں پر حاوی قدم تھے اور کچھ وہ لوگ ہیں جو قدم بقدم مخالف سمت میں روانہ ہیں اور پھر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ مسلم ہیں، کوئی اتنا بھی تو عقل کا اندھا نہیں ہوسکتا کہ ان دونوں تصویروں کو دیکھے اور سمجھ نہ سکے کہ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَ اصَحَا بِي ( ترندی کتاب الایمان حدیث نمبر : ۶۵۲۵) کا بیان کس کے حق میں پورا آ رہا ہے اور کس کے حق میں نہیں آ رہا۔اس لئے جب آپ ثبات قدم کی دعا کریں تو یہ دعا خصوصیت سے کریں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی عالی کے قدم آزادی ضمیر کی جنگ میں جو نقوش پا چھوڑ گئے ہیں اے خدا! ہمیں تو فیق عطا فرما کہ ان نقوش پا کو چومتے ہوئے اپنی جان، مال، عزت اور نفس کی قربانیاں دیتے ہوئے اس راہ میں آگے بڑھتے چلے جائیں اور ہمیشہ ہمارا قدم آگے بڑھے اور منفی طرف واپس نہ ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج چند ایسی اطلاعیں ملی ہیں وفات کی جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ خصوصیت کے ساتھ جمعہ کے بعد نماز جنازہ ہونی چاہئے۔ایک تو ہمارے دو بڑے مخلص نو جوان جو جرمنی میں آئے ہوئے تھے وہاں ایک کار کے