خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 811
خطبات طاہر جلد۵ 811 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء نہ ہو سکے کسی سے۔اپنے بچوں کو دیکھ رہا ہے کہ کسی کی بات سن کر وہ متاثر ہور ہے ہیں اور اپنے خیالات بدل رہے ہیں۔اس کے سینے میں ایک آگ لگ جائے وہ کہے کہ یہ نہیں میں ہونے دوں گا۔ہر ایسے شخص کے مقابل پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا جہاد کھڑا ہو جائے گا آزادی ضمیر کے نام پر جو آپ نے جہاد کیا تھا اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس کی تائید کرے جس نے واقعہ دلائل کے نتیجہ میں اپنا مذہب تبدیل کیا یا اپنے خیالات تبدیل کئے اور ہر ایسی جبر کی کوشش کا مقابلہ کرے جو ان بنیادی انسانی حقوق میں مداخلت کرتی ہے۔ایسا شخص اگر بدنی جہاد پر بھی مجبور ہو، جسمانی جہاد پر بھی مجبور ہوتو اسلام کے نزدیک وہ بھی جہاد ہی ہے۔ثانوی حیثیت کا ہو مگر بہر حال جہاد وہ بھی ہے اور جہاد کی اصل یہ تعریف ہے۔چنانچہ آج جماعت احمدیہ کو عملاً ایسے حالات درپیش ہیں جن میں یہ مضمون خوب کھل کر ہمارے سامنے آچکا ہے۔آنحضرت ﷺ نے جو چار بنیادی حقوق انسان کے تسلیم کروائے اور جن کے لئے آپ نے اور آپ کے غلاموں نے بے انتہا قربانیاں دیں۔آج آپ سے وہ چاروں بنیادی حقوق زبردستی چھینے جارہے ہیں۔آج آپ کے متعلق یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ آپ کو کوئی حق نہیں ہے کہ آپ وہ سوچیں ، وہ عقیدہ رکھیں جو آپ رکھتے ہیں اور آپ کو یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر آپ عقیدہ رکھتے بھی ہیں تو اپنی ذات کے اندر چھپا کر، لپیٹ کر رکھ لیں۔جس بات کو آپ حق سمجھتے ہیں، جس کو آپ سچ سمجھتے ہیں اسے بیان کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں اور پھر یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ اگر اس بیان کو کوئی سنے تو اسے اپنے خیالات تبدیل کرنے کا بھی حق کوئی نہیں اور اگر وہ کرے تو ہم اسے قتل کی سزا دیں گے اور آخری بات یہ کی جارہی ہے کہ صرف اس کو قتل کی سزا نہیں ملے گی تم جو خیالات تبدیل کروانے والے ہو تمہیں بھی سزا دی جائے گی۔یہ چاروں بنیادی حقوق جو انسانی حقوق ہیں محض مذہبی حقوق نہیں ہیں، جن کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ رسول اکرم ﷺ نے ساری عمر جہاد کیا اور جن امور کے لئے آپ نے اپنے خدام اور غلاموں کو جہاد سکھایا ان سب کی کلیہ نفی آج کی جارہی ہے بدبختی اور بد قسمتی سے اسلام کے نام پر کیسی دردناک تصویر کھینچ رہی ہے کہ آنحضور ﷺ کی سیرت کا تو یہ خلاصہ ہے کہ ساری زندگی آپ نے اور آپ کے غلاموں نے اس آزادی ضمیر کے لئے انتہائی دکھ اٹھائے ، جانیں لٹائیں ،خون