خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 809
خطبات طاہر جلد۵ 809 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء بہت وسیع ہے اور اس کے سارے پہلوؤں پر ایک خطبے میں کوئی گفتگو ہو ہی نہیں سکتی لیکن میں نے آج کے خطبہ کے لئے ایک پہلو چنا ہے سیرت محمد مصطفی ﷺ کا جس کی طرف متوجہ کرنا ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک جہاد آزادی ضمیر کے لئے کیا تھا اور وہ جہاد ہے جو بنی نوع انسان کی خاطر کیا گیا ہے،صرف اسلام کی خاطر نہیں کیا گیا۔ہمیشہ سے جب سے انسان انسانیت کو پاؤں تلے روندنے والوں سے مقابلہ کرتا چلا آرہا ہے۔جب سے آزادی ضمیر کی خاطر کسی نوع کی جنگ بھی جاری ہے۔سب سے زیادہ اس مضمون میں عظیم الشان اور کامل جہاد حضرت اقدس محمد مصطفیٰ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔آپ کے مطالبات اس مضمون میں یہ تھے کہ سب سے پہلے آپ نے سوسائٹی کو اس طرف متوجہ کیا کہ ہر شخص اپنی سوچوں اور اپنے ایمان میں آزاد ہے کوئی حق نہیں ہے کسی کا کہ کسی کی سوچ پر اور اس کے ایمان پر ، اس کے نظریات پر کسی قسم کی قدغن لگائے اور جبرا ان کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔یہ جو اعلان ہے یہ اسلام کے لئے نہیں ہے ، بڑی جہالت ہے کہ اگر اسے سمجھا جائے کہ یہ صرف اسلام کی خاطر ہے یہ تو آزادی ضمیر کا جہاد ہے ، شرف انسانی کو قائم کرنے والا جہاد ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان حق نہیں رکھتا کہ کسی اور انسان کے نظریات کو، اس کے خیالات کو ، اس کی سوچوں کو زبر دستی تبدیل کرے یا اس پر جبر کے تالے لگا دے اور اس کو ان سوچوں کے اظہار کا حق نہ ہو۔تو یہ دوسرا جہاد کا پہلو یہ تھا کہ آپ نے یہ فرمایا اور قرآن کریم اس مضمون کو کثرت سے بیان کرتا ہے کہ صرف یہ نہیں کہ انسان کو خود اپنی سوچوں میں آزادی نصیب ہے بلکہ اس کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ جو کچھ سوچتا ہے یا دیکھتا ہے یا سمجھتا ہے اسے دوسروں کو بیان کرے اور اس کا نام بلاغ ہے، پہنچانا۔جب وہ بیان کر دے تو پھر لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرِ (الغاشية : ۲۳) کا مضمون شروع ہو جاتا ہے بیان کرنا مبین طریق پر، کھول کھول کر۔یہ تو فرض ہے ہر انسان کا اس کا حق ہے، لیکن جبر کو اس میں دخل نہیں ہو گا کسی قسم کے جبر کی اجازت نہیں ہوگی۔چوتھا پہلو اس جہاد کا یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اسکے نتیجے میں کسی کی بات مان لے اور اپنے خیالات تبدیل کر دے تو ہرگز کسی دوسرے کا حق نہیں ہے کہ وہ زبر دستی اس کو اس تبدیلی خیال سے رو کے اور کہے کہ ہرگز تمہیں اپنا خیال تبدیل نہیں کرنے دیں گے اور اس کے نتیجہ میں خیال تبدیل کروانے والے کو سزائیں دے اور اس کو بھی مارے اور اس کی مخالفت بھی جسمانی طور پر کرے۔ہر قسم