خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 806
خطبات طاہر جلد۵ 806 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء ہونا اس کا طبعی اور لازمی نتیجہ ہے۔اسی لئے مومن اپنی گفتگو میں کامل یقین رکھتا ہے اور اس کے لئے ڈگمگانے کا سوال ہی نہیں۔ہمیشہ دلائل میں اور گفتگو میں وہ شخص ڈگمگاتا ہے جو کہیں جا کر خود ابہام کا شکار ہو جائے۔دلیل دیتے وقت کہیں وہ پہنچتا ہے اور اچانک اسکو خیال آتا ہے کہ کہیں یہ مطلب تو نہیں ، کہیں وہ مطلب تو نہیں یا غیر نے جو بات کہی ہے وہ درست بھی ہے کہ نہیں ہوسکتا ہے اس کی بات درست ہو، میں اس کا انکار کر دوں اور غلط کر دوں۔تو لا علمی اور مضمون کی معرفت میں کمی ، دلائل کی دنیا میں قدم کو ڈگمگاتی ہے اور اسی حد تک اس سے ثبات قدم چھین لیتی ہے۔پس جب اس مضمون کو روحانی اور علمی اور مذہبی اور دینی جہاد میں اطلاق کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اے خدا ! ہمیں ثبات قدم عطا فرما ! یعنی ہمیں وہ ساری صفات عطا کر جو د لیری پیدا کرتی ہیں جن کا اس مضمون سے تعلق ہے۔ان میں ایک بات یہ ہے کہ ہم ثقہ بات کرنے والے ہوں، شک والی بات کرنے والے نہ ہوں۔ہمیں گہرا علم عطافرما ! اس علم کا عرفان عطا فرما! ہمیں ایسے دلائل نصیب فرما جو قاطع ہوں ، جن کا دشمن کے پاس کوئی جواب نہ ہو اور ہمیں حق پر قائم رہنے کی توفیق بخش اور کبھی بھی ہم ناحق بات کرنے والے نہ ہوں۔اس کے علاوہ ثبات میں مثبت پہلو اسی لئے اردو میں مثبت کے معنی استعمال کرتے ہیں م ، ث ، ب ، ت سے بنا ہوا لفظ ہے۔مثبت مدمقابل ہے منفی کے، جس طرح جمع کے مد مقابل ہے تفریق کے۔تو ثبات قدم میں ایک معنی یہ ہے کہ ہمیں اس جہاد میں ہر منفی حرکت سے بچا! ہر ایسی حرکت سے بچا جو تیرے نزدیک غلط معنی رکھتی ہے اور تخریبی حیثیت رکھتی ہے ، اس کی بجائے ہمیں تعمیری کردار عطا کر ، ہمارے دلائل تعمیری ہوں ، ان میں اثبات ہو مثبت باتیں ہوں منفی تحریک نہ ہو۔یہ سارا مضمون ایک مومن کے طریق گفتگو کو ایک کافر کے طریق گفتگو سے اس طرح ممتاز کر دیتا ہے جیسے اندھیرے سے روشنی جدا ہو جائے ، کوئی بھی دونوں کے اندرا بہام باقی نہیں رہتا اور اس مضمون میں داخل ہو کر ثبات قدم کی دعا کے یہ معنی ہو جائیں گے کہ اے خدا ! ان صفات سے ہمارے قدم نہ اکھڑنے دے، دشمن زور لگائے گا کہ ہمیں اپنے طریق پر کھینچ لائے دشمن زور لگائے گا کہ ہم سے ہماری مثبت صفات چھین کر ہمیں بھی منفی طریق اختیار کرنے پر مجبور کر دے۔جس قسم کا گند وہ بولے اسی طرح کا گند ہمیں بلوانے لگے۔جس قسم کا جبر وہ دین میں استعمال کرنا چاہے اسی قسم کا جبر