خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 805 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 805

خطبات طاہر جلد۵ 805 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء جب ہم اس کے مادے پر غور کرتے ہیں تو یہ فعل ثلاثی مجرد ہے یعنی اس کے آغاز میں اس کے مادے میں صرف تین حرف ہیں ث۔باورت اور اس کا ماضی دو طرح سے استعمال ہوتا ہے ع کلمہ کی ضم کے ساتھ اور ع کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی۔ثبت بھی کہتے ہیں عرب اور ثَبَت بھی کہتے ہیں اور دونوں کے مضمون میں تھوڑا سا فرق آ جاتا ہے لیکن پھر بھی ملتے جلتے اور حقیقت میں ایک ہی مضمون کو دو طرح سے بیان کرنے کے رنگ ہیں۔جب ع کلمہ کی ضم یعنی پیش کے ساتھ ثبت پڑھا جائے تو اس کا مادہ ہو گا ثباتة اور اس کا معنی ہے شجاعت، بہادری۔کسی شخص کو جب ثبیت کہا جائے تو اس کا مطلب ہے بہت ہی دلیر ہے اور بہادر شاہسوار کے لئے بھی عرب تثبیت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔تو صرف ایک منفی پہلو نہیں ہے اس لفظ میں کہ ہمیں لڑکھڑانے سے باز رکھ بلکہ جرات کی دعا ہے، بہادری کی دعا ہے، شاہسواروں والی دلیری کی دعا ہے۔دوسرا ثَبَتَ ثَباتاً وثَبُوتاً یہ ثَبَتَ جو ہے ع کلمہ کی زبر کے ساتھ اس کا معنی ہے استقرار اور وہ مفہوم جسے ثبات قدم کہا جاتا ہے اور صرف یہی معنی نہیں اس میں اور بھی بہت سے معنی ہیں مثلاً ثبوت بھی اسی مادے سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے برہان قاطعہ ،قطعی دلیل جو ایک مضمون کو کلیاً بغیر شک کے ثابت کر دے۔اسی طرح لفظ ثبت میں معرفت حق بھی داخل ہے ایک استعمال اس لفظ کا جب حق کے معاملہ میں ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں حق کا عرفان اور معرفت عطا فرما۔اسی طرح اس میں ایک کہنے والے کے لئے جس کے متعلق یہ لفظ بولا جائے اس کی بات کی وقعت کی طرف بھی اشارہ کیا ہوتا ہے۔اشبات وہ لوگ ہیں جو وقیع ہیں، جن کی باتیں غلط نہیں ہوتیں ، جن کی باتوں میں وزن ہوتا ہے اور جب بات کرتے ہیں حق کی بات کرتے ہیں۔اب یہ بظاہر الگ الگ معنی ہیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ ان سب کا گہرا تعلق ہے۔وہ شخص جو حق پر قائم ہو اور حق کا عرفان بھی رکھتا ہو، اس کے لئے لازمی ہے کہ وہ بہادر بھی ہو کیونکہ دلیری سچائی سے پیدا ہوتی ہے اور صرف سچائی سے نہیں بلکہ سچائی کے عرفان سے پیدا ہوتی ہے اور دلائل میں جب گفتگو ہورہی ہو تو وہ شخص جس کے پاس حق ہو جس کے پاس مضبوط اور قاطع دلیل ہو جو شخص اس مضمون کا عرفان رکھتا ہو جس میں گفتگو کر رہا ہے تو اس کی بات میں ایک عجیب شوکت پیدا ہو جاتی ہے، اس کی بحث میں ایک ایسی طاقت آجاتی ہے کہ اس کے نتیجہ میں اس کا دلیر