خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 801 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 801

خطبات طاہر جلد۵ 801 خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء ثبات قدم کی دعا کی پر معارف تشریح نیز آزادی ضمیر کے جہاد میں آنحضور کا اسوہ ( خطبه جمعه فرموده ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اور پھر فرمایا: ( آل عمران: ۱۴۸) یہ دعا جس کے متعلق میں کئی مرتبہ تلقین کر چکا ہوں کہ اسے احمدیوں کو ان دعاؤں میں شامل رکھنا چاہئے جو موجودہ حالات میں خصوصیت کے ساتھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور پوری عاجزی کے ساتھ اور تضرع اور خشوع کے ساتھ کرنی چاہئیں۔اس دعا کو آج کے خطبہ کے لئے میں نے اس لئے چنا ہے کہ اس میں بعض ایسے مضامین بیان ہیں جن کی طرف عموماً دعا کرنے والے کا ذہن منتقل نہیں ہوتا اور اس سلسلہ میں وہ مدد کا محتاج ہے۔چونکہ اکثر احمدی میں توقع رکھتا ہوں اس دعا کا ورد کرتے ہوں گے اگر کبھی بھول بھی گئے ہوں تو یاد آجاتی ہوگی یا جماعتیں ان کو یاد کر وا دیتی ہوں گی اور اب تک اگر کوتاہی ہوئی بھی ہے تو آئندہ میں توقع رکھتا ہوں کہ خصوصیات کے ساتھ اسے پیش نظر رکھیں گے۔جو باتیں قابل توجہ اس آیت میں ایسی بیان ہوئی ہیں جو دعائیہ آیت ہے، جن کے متعلق