خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 74
خطبات طاہر ۵ 74 خطبہ جمعہ ۲۴ / جنوری ۱۹۸۶ء پھر فرمایا: قرآن کریم کی یہ چند آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں حسن معاشرت کے تمام بنیادی اصول بیان فرما دیئے گئے ہیں اور ان تمام باتوں سے روکا گیا ہے جس سے انسانی معاشرہ کسی نہ کسی رنگ میں بیمار پڑ جاتا ہے اور خوشی کی بجائے دکھوں اور تکلیفوں کا موجب بن جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرت کی بنیاد ہی اس تصور پر ہے کہ ایک انسان جو اپنی اکیلے ایک بھلائی کو نہیں پاسکتا اجتمائی کوشش سے وہ بھلائی اس کو نصیب ہو جائے ورنہ فی الحقیقت تو انسان ایک خود غرض جانور ہے۔اگر اکیلا رہ کر اس کا بس چل سکتا کہ سب خیر اس کو حاصل ہو جاتی تو وہ کسی دوسرے کی خاطر کسی تکلیف کو بھی برداشت نہ کرتا اور اپنے آرام میں کسی دوسری چیز کوخل نہ ہونے دیتا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے ایک فرد کو دوسرے فرد پر انحصار کرنے والا بنایا ہے اس لئے کہ خدا کے سوا کوئی نہیں جو کسی دوسرے کی احتیاج سے بالا ہو اس لئے ایک انسان کو دوسرے انسان کی احتیاج رہتی ہے لیکن اس احتیاج کی بنیاد خیر پر واقع ہوئی ہے۔اس کا مقصود یہ ہے کہ خیر بڑھے نہ یہ کہ تکلیف بڑے۔پس معاشرے میں جب بھی کوئی ایسا عمل جاری ہو یا کوئی ایسا فعل انسان سے سرزد ہو جس کے نتیجے میں دکھ پیدا ہوتا ہے تو یہ معاشرت کے اصول کے بالکل برعکس چیز ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ آج کی دنیا میں معاشرہ بالعموم بدیاں پھلانے کا موجب بن چکا ہے اور خیر پھیلانے کا اور خیر کے حصول کا ذریعہ کم رہ گیا ہے۔قرآن کریم چونکہ بنیادی اصولوں سے تعلق رکھنے والی کتاب ہے اور ہر زمانے پر حاوی ہے اس لئے قرآن کریم نے حسن معاشرت کے اصول کو بیان فرمایا ہے اور ان چیزوں سے رکنے کی تاکید فرمائی جن کے نتیجے میں معاشرہ خراب ہو سکتا ہے۔پہلی بات معاشرے کی تباہی کی موجب افتخار بیان فرمائی گئی۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ دیکھو ایک قوم دوسرے پر بڑائی محسوس کر کے اس رنگ میں اس کی تحقیر نہ کرے، اس رنگ میں اس پر نہ ہنسے گویا وہ اس سے ادنی ہے۔بظاہر تو یہ اک چھوٹی سی بات ہے لیکن آج کی دنیا میں خصوصا مغربی دنیا میں اس آیت کا یہ ٹکڑا بڑی شدت کے ساتھ عمل دکھا رہا ہے۔ساؤتھ افریقہ میں