خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 793
خطبات طاہر جلد ۵ 793 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء کہ جھوٹ بولواس لئے سچ کی سزا ملے گی تمہیں اور جہاں تک غیر احمدیوں کا تعلق ہے زور لگا کر تھک گئے کہ ان کو سچ کی عادت ڈالیں ، سچ کی عادت نہیں ڈال سکے۔اس بُری طرح ناکام ہوئے ہیں کہ اپنے بیانات میں وزراء بھی کہہ رہے ہیں اور پریذیڈنٹ صاحب بھی کئی مواقع پر اس ناکامی کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہم نے زبر دستی اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی تھی مگر یہ قوم ہمارے قابو نہیں آئی۔اسلام نافذ کرنے میں اس قوم پر ہم بُری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ہر معاملے میں بد دیانتی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ابھی دو تین دن کی بات ہے صدر صاحب کا بیان آیا تھا کہ ہسپتالوں میں جہاں بنی نوع انسان کی سے ہمددری میں جہاں بیماری اور موت کو دیکھ کر خدا کا خوف بڑھ جاتا ہے یا بنی نوع انسان کی ہمدردی میں انسان کا دل نرم پڑ جاتا ہے، ان ہسپتالوں کے متعلق صدر مملکت کا یہ بیان آیا ہے کہ ہمارے اندازے کے مطابق جتنا روپیہ مریضوں پر خرچ کرنے کے لئے ہسپتالوں کو دیا جاتا ہے اس میں سے کم از کم پچاس فی صدی خورد برد کر دیا جاتا ہے اور یہ تو اقرار ہیں اور وہ لوگ جو پاکستان سے ہو کر آتے ہیں مشاہدہ کر کے آتے ہیں وہ بتاتے ہیں، اس قدر بے اطمینانی ہے سارے ملک میں اخلاقی معیار گرنے کے نتیجہ میں کہ ہر طرف یہی باتیں ہو رہی ہیں، یہی شکوے ہو رہے ہیں کہ اس قوم کا کیا بنے گا، ہر پہلو سے اس قوم کے اخلاق کا دیوالیہ پٹ چکا ہے۔امن وامان کا وعدہ کرتا ہے اسلام۔انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اسلام کے نام پر آئے ہیں ہم امن و امان قائم کر کے دکھائیں گے امن وامان کی حالت یہ ہے کہ آج تک کبھی پاکستان کی تاریخ میں بعض گزشتہ حکومتوں کے سارے دور میں اتنے ڈاکے نہیں پڑے تھے جتنے اس حکومت کے دور میں ایک ایک ہفتے میں ڈا کے پڑ جاتے ہیں۔صدر ایوب کے زمانے کے ساری تاریخ کے ڈاکے اکٹھے کر لیں اور ایک ہفتہ میں اس مبینہ اسلامی حکومت کے دور میں جو ڈا کے پڑتے ہیں ان کی آپ مقابلہ کر کے دیکھ لیں ، فی ہفتہ یہاں ڈا کے زیادہ پڑ رہے ہیں۔کلیۂ امن اٹھ چکا ہے۔ایسے بھیانک اغوا کے واقعات جن کا پہلے پاکستانی سوسائٹی تصور نہیں کر سکتی تھی ، اب روز مرہ کی باتیں ہو چکی ہیں۔جب ایک وزیر صاحب کی توجہ دلائی گئی کہ یہ امن وامان کی حالت خراب ہے اور اتنے ڈا کے پڑرہے ہیں کیا وجہ ہے؟ آپ تو اسلامی حکومت سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں آپ کا فرض