خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 790
خطبات طاہر جلد ۵ 790 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء سے کام لیا سمجھ بوجھ سے کام لیا انہوں نے کہا کہ یہ ناممکن ہے اس لئے ہم اس معاملہ میں آگے نہیں بڑھیں گے تو وہاں یہ تحریک نظر آنی بند ہوگئی ، لیکن جہاں نسبتا تھوڑے احمدی تھے مثلاً ضلع خوشاب ہے وہاں یہ نمایاں ہو کر نظر آنے لگی۔بعض جگہ جہاں زیادہ طاقت تھی احمدیوں کی اور یہ تحریک بے انتہاء شدت اختیار کرنے لگی۔چھوٹے، بڑے، بوڑھے، جوان ،مرد عورتیں، بچے یہ دوڑے کلمے لگالگا کر کہ اگر اس جرم میں سزا ہے جیل کی تو ہم حاضر ہیں۔تو وہاں انتظامیہ نے ایک قدم اٹھایا بھی تھا تو اس کو واپس لے لیا لیکن خوشاب میں ابھی بھی یہ تحریک پورے زوروں پر چل رہی ہے اور اس میں ضلع سرگودھا کے بہت سے شریر، حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔وہاں ہمارے ضلع خوشاب کے امیر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی بہادر انسان ہیں اور غیر معمولی کلمہ توحید سے محبت رکھنے والے انسان ہیں۔ان کے متعلق اطلاعیں جومل رہی ہیں، مسلسل بار بار ان کو نہ صرف یہ کہ ان کو قید کیا گیا بلکہ قید کرتے وقت ان پر مولوی چھوڑے گئے اور مولویوں کے چیلے چھوڑے گئے ان کو شدید طور پر مجروح کیا گیا اور اس حال میں بیڑیاں پہن کے ان کو قید میں ڈالا گیا کہ سارا جسم زخموں سے چور تھا لیکن اعلان انہوں نے پھر بھی یہی کیا ہر جگہ یہی کیا کہ جب تک میری زندگی ہے ہزار بار تم مجھے جیل میں ڈالو گے مگر کلمہ سے محبت تو در کنار میں نے کلمہ لگانا بھی نہیں چھوڑنا۔ان کا عجیب واقعہ ان کے ساتھی جو تھے جیل کے، انہوں نے لکھا ہے کہ جب ان کو جیل میں ڈالا گیا تو کلے نوچ لئے گئے تھے ان کے جسم سے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کوئی لکھنے کی چیز ہے تو میری قمیض پر لکھ دو۔چنانچہ انہوں نے ان کی قمیض پر کلمہ لکھ دیا۔جیلر کی جب نظر پڑی تو اس نے کہا اس جرم میں تو تم اندر آئے ہو خبر دار! اتار قمیض۔انہوں نے کہا یہ قمیض تو میں نہیں اتار سکتا اس پر اس نے پھاڑ کرنوچ کر وہ قمیض الگ کر دی۔انہوں نے اپنی چھاتی پر کلمہ لکھوالیا کہ اب میری جلد بھی نوچ لو۔جہاں تک چلتے چلے جاؤ گے میں دوبارہ کلمہ لکھتا چلا جاؤں گا۔میرے دل سے جب تک تم کلمہ نہیں نوچ سکتے تمہیں طاقت ہی نہیں ہے کہ اس کلمہ کو مجھ سے جدا کر دو۔ان پر اور ان کے ساتھیوں پر بار بار ایسے ظالمانہ اقدامات کرنے کی حکومت نے اجازت دی ان معنوں میں اجازت دی، کہ کچہری میں پولیس کی موجودگی میں چندملاں اور ان کے ساتھی ان